پشاور: خیبر پختونخوا کے ضلع مہمند میں انسدادِ پولیو ٹیم کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکاروں پر مسلح حملے میں دو اہلکار شہید جبکہ ایک زخمی ہوگیا۔ ضلع پولیس افسر رضا محمد خان کے مطابق واقعہ منگل کو تحصیل پنڈیالی کے تمنزئی علاقے میں پیش آیا، جو پنڈیالی پولیس اسٹیشن کی حدود میں واقع ہے۔
پولیس حکام کے مطابق نامعلوم مسلح افراد نے اس وقت فائرنگ کی جب اہلکار جاری انسدادِ پولیو مہم کے دوران ویکسینیشن ٹیم کو سکیورٹی فراہم کر رہے تھے۔ شہید اہلکاروں کی شناخت ظہور اور عربی کے نام سے کی گئی جبکہ زخمی پولیس اہلکار کا نام صابر بتایا گیا ہے۔ ڈی پی او نے بتایا کہ جوابی کارروائی یا واقعے کے دوران ایک حملہ آور بھی زخمی ہوا اور علاقے میں ملزمان کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن شروع کردیا گیا ہے۔
صدر آصف علی زرداری نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہید پولیس اہلکاروں کے اہل خانہ سے تعزیت کی۔ ایوانِ صدر سے جاری بیان کے مطابق صدر نے پولیو مہم کی حفاظت پر مامور اہلکاروں کی خدمات اور قربانی کو خراجِ تحسین پیش کیا اور زخمی اہلکار کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کو پولیو سے محفوظ بنانے کی قومی کوشش میں فرائض انجام دینے والے سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنانا قابلِ مذمت ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی فائرنگ کی مذمت کی اور شہید اہلکاروں کے خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کیا۔ ان کے بیان کے مطابق پولیو ورکرز کی حفاظت کرنے والے پولیس اہلکار ملک کے صحت مند مستقبل کے لیے ذمہ داری ادا کر رہے ہیں اور ایسے حملوں میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب 2 نومبر سے ملک کے 97 منتخب اضلاع میں خصوصی انسدادِ پولیو مہم جاری ہے، جو نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر کے مطابق 8 نومبر تک جاری رہنی ہے۔ پولیو ٹیموں اور ان کی سکیورٹی پر حملے مہم کے لیے ایک مستقل عملی چیلنج رہے ہیں، خصوصاً خیبر پختونخوا کے بعض اضلاع میں جہاں ویکسینیشن عملے کو پولیس تحفظ کے ساتھ فیلڈ میں بھیجا جاتا ہے۔
حکام نے فوری طور پر کسی تنظیم کو حملے کا ذمہ دار قرار نہیں دیا۔ اس لیے حملہ آوروں کی شناخت اور محرک سے متعلق کسی نتیجے کو پولیس کی تفتیش مکمل ہونے تک حتمی نہیں سمجھا جا سکتا۔
