وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے کہا ہے کہ حکومت موٹروے انفراسٹرکچر کو کاغان اور ناران سے آگے چینی سرحد کی سمت توسیع دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں کاروباری برادری سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اس منصوبہ بندی کو شمالی علاقوں میں سیاحت کے فروغ اور چین کے ساتھ زمینی تجارت میں سہولت سے جوڑا۔
وزیر مواصلات کے مطابق بہتر سڑک رابطے سے سیاحتی مقامات تک رسائی آسان ہونے کے ساتھ تجارتی نقل و حرکت کے نئے امکانات پیدا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے موٹروے نیٹ ورک کو اہم تجارتی راستوں کے ساتھ مربوط کرنا معیشت اور علاقائی رابطہ کاری کے لیے اہم ہے۔ تاہم اعلان میں کاغان اور ناران سے آگے مجوزہ توسیع کی مکمل لاگت، حتمی روٹ یا تعمیر شروع ہونے کی تاریخ نہیں بتائی گئی۔
عبدالعلیم خان نے ملک کے دیگر بڑے سڑک منصوبوں پر بھی پیش رفت کا ذکر کیا۔ ان کے مطابق فیصل آباد موٹروے کی توسیع پر تعمیراتی کام تیزی سے جاری ہے، جبکہ لودھراں ایکسپریس وے بھی جلد مکمل کرنے کا ہدف ہے۔ انہوں نے سیالکوٹ-کھاریاں موٹروے کے بارے میں کہا کہ اس سے لاہور اور اسلام آباد کے درمیان فاصلہ تقریباً ایک سو کلومیٹر کم ہو سکتا ہے۔
موٹروے نیٹ ورک کی شمال کی جانب توسیع کا معاملہ جغرافیائی اور انجینئرنگ اعتبار سے پیچیدہ ہے کیونکہ پہاڑی علاقوں میں تعمیر، موسمی حالات، زمین کے حصول اور ماحولیاتی اثرات جیسے عوامل منصوبے کی رفتار اور لاگت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ موجودہ سرکاری بیان پالیسی سمت اور منصوبہ بندی کے اعلان کی تصدیق کرتا ہے، مگر اسے مکمل مالی اور تکنیکی منظوری یا تعمیر کے آغاز کے برابر نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ بہتر شاہراہیں مقامی سیاحت، مال برداری اور علاقائی تجارت میں مدد دے سکتی ہیں۔ منصوبے کی اگلی اہم پیش رفت اس وقت واضح ہوگی جب متعلقہ ادارے تفصیلی روٹ، مالیاتی بندوبست، تعمیراتی پیکیجز اور باقاعدہ تکمیل کے اہداف جاری کریں گے۔
