ملتان کے قریب شیر شاہ ریلوے اسٹیشن کے علاقے میں منگل کی صبح رحمان بابا ایکسپریس کے پٹری سے اترنے کے نتیجے میں پانچ مسافر جاں بحق اور 49 زخمی ہوگئے۔ یہ مسافر ٹرین پشاور کی جانب جا رہی تھی۔ ریسکیو حکام کے مطابق جاں بحق افراد میں دو سال کا ایک بچہ بھی شامل ہے۔ حادثے کے بعد امدادی کارکنوں نے متاثرہ بوگیوں سے مسافروں کو نکالنے اور زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنے کے لیے کارروائی کی۔
ریسکیو 1122 کے ایک مقامی اہلکار نے بتایا کہ 49 زخمیوں میں سے 22 کو موقع پر ابتدائی طبی امداد دی گئی، جبکہ 27 کو باقاعدہ علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔ پاکستان ریلوے کے چیف ایگزیکٹو افسر محمد حفیظ اللہ نے پانچ اموات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ متعدد زخمیوں کو طبی امداد کے بعد فارغ کیا جا چکا ہے اور ان کے بیان کے وقت سات افراد اسپتال میں زیر علاج تھے۔ متاثرہ خاندانوں کو قواعد اور متعلقہ انشورنس پالیسی کے مطابق معاوضہ دینے کی بات بھی کی گئی ہے۔
ریلوے کی ابتدائی مشترکہ رپورٹ میں حادثے کی ممکنہ وجہ انجن کے بعد دوسری مسافر بوگی کے ایک لٹکتے ہوئے حصے کا پٹری بدلنے والے نظام کے حصے سے ٹکرانا بیان کی گئی ہے۔ یہ ابتدائی تشخیص ہے، حتمی تحقیقاتی نتیجہ نہیں۔ ٹرین کے ڈرائیور رضوان عباس کے مطابق سگنل کلیئر تھے اور اچانک جھٹکا محسوس ہونے پر انہوں نے بریک لگائی۔ ریلوے ذرائع نے بتایا کہ تمام 14 بوگیاں پٹری سے اتریں اور ٹرین کی رفتار منظور شدہ حد کے قریب تھی۔ ان تفصیلات کی روشنی میں حادثے کی مکمل ذمہ داری کا تعین حتمی انکوائری سے مشروط ہے۔
وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا اور زخمیوں کے علاج کی ہدایات جاری کیں۔ انہوں نے فیڈرل گورنمنٹ انسپکٹر آف ریلویز کو حادثے کی تحقیقات کرنے کا حکم دیا۔ وزیر کے مطابق ریلوے کے انجنوں، مسافر بوگیوں اور مال گاڑیوں سے متعلق مسائل دور کرنے کے لیے کام جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ذمہ داروں کا تعین تحقیقات کے بعد کیا جائے گا۔
حادثے کے بعد ملتان کے راستے ٹرینوں کی آمدورفت متاثر ہوئی کیونکہ دونوں جانب کی پٹریاں بند ہوگئی تھیں۔ بعض ٹرینوں کو لودھراں، جہانیاں اور خانیوال کے متبادل راستوں سے گزارا گیا۔ ریلوے نے متاثرہ مسافروں کے لیے متبادل ٹرین کا انتظام کیا جبکہ ضلعی انتظامیہ کے تعاون سے سڑک کے ذریعے سفر جاری رکھنے والوں کے لیے بسیں بھی فراہم کی گئیں۔ صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے اموات پر افسوس ظاہر کیا اور واقعے کی شفاف تحقیقات کی ضرورت پر زور دیا۔
