پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے منگل 13 اکتوبر کو فتح ٹو ایکسٹینڈڈ رینج میزائل کے کامیاب تجرباتی لانچ کا اعلان کیا ہے۔ فوجی بیان میں اس نظام کو طویل فاصلے تک اہداف کے خلاف استعمال کے لیے تیار کردہ ہائپرسونک بیلسٹک میزائل قرار دیا گیا۔ تجربے کی کامیابی اور میزائل کی تکنیکی خصوصیات سے متعلق معلومات سرکاری فوجی بیان پر مبنی ہیں؛ دستیاب خبر میں کسی آزاد تکنیکی جانچ کے نتائج شامل نہیں تھے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق فتح ٹو ای آر میں جدید نیویگیشن اور ایویانکس نظام نصب ہیں۔ فوجی ترجمان نے دعویٰ کیا کہ میزائل کی پرواز کی مخصوص ساخت اور راستے میں سمت بدلنے کی صلاحیت اسے اہداف کو درستگی سے نشانہ بنانے اور مخالف میزائل دفاعی نظام کے مقابلے میں مؤثر بنانے کے لیے تیار کی گئی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ توسیع شدہ رینج کے باعث فوج کی دور دراز اہداف تک پہنچنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔ خبر میں اس مخصوص تجربے کی مصدقہ عملی رینج کا عدد نہیں دیا گیا، اس لیے کسی فاصلے کا غیر مصدقہ دعویٰ شامل کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
فوجی بیان کے مطابق آرمی راکٹ فورس کمانڈ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل نعمان زکریا، دیگر سینئر فوجی افسران، سائنس دان اور انجینئرز تجربے کے موقع پر موجود تھے۔ آرمی راکٹ فورس کمانڈر نے منصوبے میں شامل ماہرین کی تکنیکی مہارت اور محنت کو سراہا۔ یہ تفصیلات فوج کی جانب سے جاری کردہ معلومات میں بیان کی گئیں اور تجربے کے تکنیکی پہلوؤں پر مزید آزاد دستاویزات کا ذکر نہیں کیا گیا۔
صدر مملکت، وزیراعظم اور چیف آف ڈیفنس فورسز نے فوجی بیان کے مطابق تجرباتی لانچ پر متعلقہ سائنس دانوں اور انجینئرز کو مبارک باد دی۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی اس پیش رفت کو دفاعی شعبے کے لیے اہم قرار دیا۔ ان ردعمل سے حکومت کی جانب سے تجربے کو دفاعی ٹیکنالوجی کی پیش رفت کے طور پر پیش کرنے کا مؤقف سامنے آتا ہے۔
یہ تجربہ ایک ایسے وقت سامنے آیا جب اس سے پہلے مقامی طور پر تیار کردہ فتح فور کروز میزائل کے توسیع شدہ ورژن کا تجربہ بھی رپورٹ کیا گیا تھا۔ تاہم فتح ٹو ای آر کا تازہ تجربہ اور فتح فور کا سابقہ تجربہ الگ میزائل نظاموں اور الگ واقعات سے متعلق ہیں۔ تازہ اعلان میں فوج نے بنیادی طور پر فتح ٹو ای آر کی پرواز، نیویگیشن اور طویل فاصلے تک ہدف کے حصول کی صلاحیتوں پر زور دیا ہے۔ دفاعی دعووں کی مکمل آزاد تصدیق دستیاب ہونے تک ان خصوصیات کو متعلقہ سرکاری ادارے کے مؤقف کے طور پر ہی بیان کیا جانا چاہیے۔
