وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ نئے صوبوں یا نئے انتظامی یونٹس کی تشکیل کی کوئی تجویز اب تک وفاقی کابینہ کے زیر غور نہیں آئی۔ ایکسپریس اردو کی 22 اگست کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے آباد ہاؤس میں تعمیراتی شعبے کے نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے انتظامی ڈھانچے، مردم شماری، قومی مالیاتی کمیشن اور شہری خدمات سے متعلق اپنے خیالات پیش کیے۔ ان کا بیان حکومتی وزیر کا سیاسی و پالیسی مؤقف ہے، کابینہ کے کسی منظور شدہ فیصلے یا آئینی ترمیم کا اعلان نہیں۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ بحث سندھ یا کسی لسانی شناخت کی حدود بدلنے کے بجائے بہتر انتظامی نظام سے متعلق ہونی چاہیے۔ انہوں نے آئین میں صوبوں کی تشکیل کے طریقہ کار کا حوالہ دیا اور مستقبل میں آئینی ترمیم کی گنجائش پر بات کی، لیکن ساتھ ہی واضح کیا کہ کابینہ میں فی الحال ایسا معاملہ زیر غور نہیں۔ اس فرق کو برقرار رکھنا ضروری ہے: ایک جانب ان کی سیاسی تجویز اور ذاتی دلیل ہے، دوسری جانب وفاقی کابینہ کی موجودہ ایجنڈا پوزیشن۔
انہوں نے کراچی اور حیدرآباد کی آبادی، مردم شماری اور مالی وسائل سے متعلق مختلف اعداد و دعوے بھی پیش کیے۔ یہ اعداد ان کی تقریر کے طور پر رپورٹ ہوئے ہیں؛ دستیاب خبر میں ہر عدد کے لیے الگ سرکاری مردم شماری یا مالی دستاویز کی تصدیق فراہم نہیں کی گئی۔ اسی لیے انہیں ثابت شدہ غیر متنازع سرکاری نتیجے کے بجائے مقرر کے بیان سے منسوب کیا جارہا ہے۔ وزیر نے قومی شناختی کارڈ سے منسلک صحت کوریج کے زیرِ تیاری منصوبے کا بھی ذکر کیا۔
نئے صوبوں کی تشکیل پاکستان میں آئینی، سیاسی اور صوبائی رضامندی سے جڑا معاملہ ہے۔ موجودہ خبر کا قابلِ تصدیق نتیجہ صرف یہ ہے کہ وفاقی وزیر نے ایک عوامی خطاب میں انتظامی اصلاحات کی حمایت کی اور کہا کہ کابینہ میں ابھی کوئی باقاعدہ تجویز زیر غور نہیں۔ کسی عملی پیش رفت کی تصدیق تب ہوگی جب کابینہ، پارلیمان یا متعلقہ صوبائی اسمبلیوں کے سامنے تحریری مسودہ یا آئینی عمل آئے گا۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک




