قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ و انسداد منشیات نے غیر قانونی طور پر جاری ہونے والی سموں، شہریوں کے بائیومیٹرک ڈیٹا کے غلط استعمال، جعلی کالوں اور آن لائن مالی فراڈ کے خلاف مشترکہ حفاظتی منصوبہ تیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔ تین ستمبر 2026 کو پارلیمنٹ ہاؤس میں راجا خرم شہزاد نواز کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں پی ٹی اے، بینکوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور موبائل آپریٹرز سے مربوط کارروائی اور جامع رپورٹ طلب کی گئی۔

اے پی پی کے مطابق نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی، موبائل کمپنیوں اور بینکاری شعبے کے نمائندوں نے کمیٹی کو بریفنگ دی۔ ارکان نے اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ بائیومیٹرک معلومات کے غلط استعمال سے کسی شہری کے نام پر غیر مجاز سم جاری ہوسکتی ہے اور اسے بعد میں جعلی رابطوں یا مالی جرائم میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔

پی ٹی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ گزشتہ ڈھائی سال کے دوران تقریباً ایک کروڑ 82 لاکھ سمیں بلاک کی گئیں اور ضابطہ جاتی خلاف ورزیوں پر موبائل آپریٹرز کو جرمانے بھی کیے گئے۔ یہ اعداد بلاک کی گئی سموں کی تعداد بیان کرتے ہیں؛ رپورٹ نے یہ نہیں کہا کہ ہر بلاک سم لازماً کسی ثابت شدہ جرم میں استعمال ہوئی تھی یا تمام معاملات میں عدالتی سزا ہوئی۔

کمیٹی نے شناخت کی تصدیق کے لیے زیادہ مضبوط ٹیکنالوجی، جس میں چہرے اور آنکھ کی پتلی کی شناخت شامل ہوسکتی ہے، پر کام کرنے کی ضرورت بیان کی۔ ایک اہم تجویز یہ تھی کہ کسی شخص کے شناختی ریکارڈ پر نئی سم جاری ہوتے ہی اسے فوری اطلاع بھیجی جائے تاکہ غیر مجاز اجرا کی جلد نشاندہی ہوسکے۔ یہ تجاویز ابھی ملک بھر میں نافذ شدہ نئے قواعد نہیں؛ متعلقہ اداروں کو ان کے قانونی، فنی، رازداری اور لاگت کے پہلو طے کرنا ہوں گے۔

اجلاس میں غیر مجاز بینک نکاسی، کرائے پر لیے گئے یا دوسروں کے لیے استعمال ہونے والے نام نہاد مول اکاؤنٹس، اور فراڈ سامنے آنے کے بعد رقم بروقت روکنے یا واپس حاصل کرنے میں مشکلات پر بھی بات ہوئی۔ کمیٹی نے پی ٹی اے، نادرا، بینکوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور موبائل آپریٹرز کے درمیان معلومات کے تبادلے اور فوری ردعمل کا طریقہ بہتر بنانے پر زور دیا۔ دستیاب رپورٹ میں کسی مخصوص بینک یا کمپنی کو فراڈ کا ذمہ دار قرار نہیں دیا گیا۔

کمیٹی نے غیر ملکی سموں کے غیر مجاز استعمال اور سوشل میڈیا پر ان کی مبینہ غیر قانونی تشہیر کے خلاف عوامی آگاہی اور نگرانی کی بھی ہدایت کی۔ سیکریٹری داخلہ و انسداد منشیات، چیئرمین پی ٹی اے اور موبائل آپریٹرز کے سربراہان سے کہا گیا کہ وہ مشترکہ طور پر مسائل حل کرکے جامع رپورٹ کمیٹی کو پیش کریں۔ رپورٹ جمع کرانے کی حتمی تاریخ اے پی پی کی خبر میں نہیں بتائی گئی۔

پارلیمانی کمیٹی کی ہدایت قانون کی نئی دفعہ، عدالت کا فیصلہ یا فوری تکنیکی نفاذ نہیں ہوتی۔ چہرہ یا آئی رس شناخت جیسے طریقوں کے استعمال کے لیے ڈیٹا تحفظ، غلط شناخت کے خطرے، رسائی کی نگرانی، اپیل اور شہری رضامندی سے متعلق واضح ضابطے درکار ہوں گے۔ اسی طرح فراڈ کی رقم روکنے کے لیے بینکوں اور تحقیقاتی اداروں کے درمیان قانونی اختیار اور جواب دہی کی حدود متعین کرنا ضروری ہوگا۔

اس پیش رفت کا قابل پیمائش نتیجہ متعلقہ اداروں کی مشترکہ رپورٹ، سم اجرا کے نئے تصدیقی قواعد، صارف کو فوری اطلاع کے نظام، فراڈ رقوم کے بروقت تعاقب اور شکایات کے اعداد سے سامنے آئے گا۔ فی الحال تصدیق شدہ بات یہ ہے کہ قومی اسمبلی کمیٹی نے موجودہ حفاظتی انتظامات کو ناکافی سمجھتے ہوئے متعدد سرکاری و نجی اداروں کو عملی، ضابطہ جاتی اور تکنیکی اقدامات مشترکہ طور پر وضع کرنے کی ہدایت دی ہے۔