لاہور: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ ملک کے انتظامی نظام میں اصلاح کی ضرورت ہے اور بعض محکمے اور ادارے کارکردگی کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ انہوں نے لاہور میں کاروباری شخصیات سے گفتگو کے دوران اپنے پہلے کے ’سسٹم ری سیٹ‘ کے مؤقف کو دہرایا اور کاروباری برادری سے حکومتی اصلاحاتی کوششوں میں تعاون کی اپیل کی۔

محسن نقوی کے مطابق وفاقی اداروں کے بارے میں کاروباری حلقوں کی شکایات حکومت تک پہنچتی رہتی ہیں اور جہاں ممکن ہو متعلقہ مسائل کو درست کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض انتظامی ڈھانچے عملی کارکردگی کو سست کرتے ہیں، اس لیے ایسے معاملات میں تبدیلی اور اصلاح ضروری ہے۔ ان کے یہ ریمارکس اس وسیع بحث کے تناظر میں سامنے آئے ہیں جس میں حکومتی کارکردگی، کاروباری سہولت اور ادارہ جاتی طریقہ کار کو بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔

وزیر داخلہ نے اس سے قبل جولائی میں پاکستان اکنامک سمٹ کے موقع پر بھی نظام میں بڑے پیمانے پر تبدیلی کی ضرورت کا ذکر کیا تھا۔ تازہ گفتگو میں انہوں نے کاروباری طبقے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اصلاحات کے لیے نجی شعبے کی رائے اور حمایت اہم ہے۔ ان کے بیان میں کسی مخصوص ادارے کے خلاف فوری قانونی یا انتظامی کارروائی کا اعلان نہیں کیا گیا بلکہ عمومی طور پر سرکاری نظام کی کارکردگی اور رکاوٹوں کا ذکر کیا گیا۔

حکومت حالیہ عرصے میں کاروباری ضابطوں، سرمایہ کاری کی سہولت اور مختلف سرکاری منظوریوں کے طریقہ کار کو سادہ بنانے کے منصوبوں پر بھی کام کر رہی ہے۔ محسن نقوی کا بیان اسی روز سامنے آیا جب وفاقی سطح پر ریگولیٹری نظام کو جدید بنانے اور کاروباری قواعد کو یکجا کرنے کی تجاویز بھی زیر بحث رہیں۔ تاہم وزیر داخلہ کے ’سسٹم ری سیٹ‘ سے متعلق تصور کی مکمل انتظامی یا قانونی تفصیلات اس گفتگو میں بیان نہیں کی گئیں، اس لیے اسے فی الحال ایک سیاسی و انتظامی پالیسی مؤقف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، نہ کہ کسی باضابطہ نئے قانونی فریم ورک کے اعلان کے طور پر۔