لاہور: وفاقی حکومت نے جامع قومی گندم پالیسی متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے جس میں گندم کی 4,500 روپے فی من مجوزہ امدادی قیمت اور قومی غذائی ضروریات کے تحفظ کے لیے 60 لاکھ میٹرک ٹن تک اسٹریٹجک ذخائر برقرار رکھنے کی حکمت عملی شامل ہے۔ وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی جاری کردہ تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے لاہور میں کسانوں کی کارکردگی سے متعلق ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پالیسی کے اہم نکات بیان کیے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت کی زرعی ترجیحات میں فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ، پیداواری لاگت میں کمی، کسانوں کی آمدنی بہتر بنانا اور ملک کی غذائی سلامتی مضبوط کرنا شامل ہیں۔ انہوں نے گندم کی بہتر پیداوار حاصل کرنے والے کسانوں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ پیداوار میں اضافہ ملکی ضرورت پوری کرنے کے ساتھ برآمدی مواقع پیدا کرنے میں بھی مدد دے سکتا ہے۔

وزارت کے مطابق نئی پالیسی میں 4,500 روپے فی من امدادی قیمت تجویز کی گئی ہے۔ چونکہ سرکاری بیان میں اسے مجوزہ قیمت کہا گیا ہے، اس لیے اسے کسی الگ صوبائی اجرا قیمت یا فوری طور پر نافذ ہونے والی خوردہ قیمت نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ گندم کی خریداری، اجرا اور آٹے کی مارکیٹ قیمتیں مختلف انتظامی اور تجارتی مراحل سے گزرتی ہیں اور ان کے نرخ ایک دوسرے سے مختلف ہوسکتے ہیں۔

پالیسی کا دوسرا اہم حصہ 60 لاکھ میٹرک ٹن تک اسٹریٹجک گندم ذخائر رکھنے کی حکمت عملی ہے۔ حکومت کا مقصد ہنگامی حالات، پیداوار میں کمی یا رسد کے دباؤ کے دوران قومی ضرورت کے لیے مناسب ذخیرہ دستیاب رکھنا ہے۔ اس سطح کے ذخائر کے انتظام میں خریداری، گوداموں کی گنجائش، مالی لاگت اور ذخیرہ شدہ گندم کے معیار جیسے عوامل اہم ہوں گے۔

رانا تنویر حسین نے زرعی شعبے میں دیگر حکومتی اقدامات کا بھی ذکر کیا، جن میں زرعی قرضوں تک رسائی بہتر بنانا، قومی سیڈ پالیسی اور قومی زرعی بائیوٹیکنالوجی پالیسی کی منظوری، اور نیشنل ایگری ٹریڈ اینڈ فوڈ سیفٹی اتھارٹی کا قیام شامل ہے۔ ان کے مطابق پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل اور قومی زرعی تحقیقاتی مرکز اسپیڈ بریڈنگ، اسمارٹ گرین ہاؤسز اور regenerative agriculture جیسے طریقوں پر بھی کام کر رہے ہیں۔

گندم پاکستان کی بنیادی غذائی فصل ہے، اس لیے پیداوار، خریداری اور ذخائر سے متعلق حکومتی پالیسی کا براہ راست تعلق کسانوں کی آمدنی اور آٹے کی دستیابی دونوں سے بنتا ہے۔ نئی پالیسی کے عملی نتائج کا انحصار آئندہ خریداری سیزن میں نفاذ، وفاق اور صوبوں کے درمیان انتظامی ہم آہنگی اور مقررہ ذخائر کے لیے مالی و ذخیرہ جاتی انتظامات پر ہوگا۔