راولپنڈی: ایک ضلعی عدالت نے جعلی امریکی ڈاک لیبل کی آن لائن فروخت سے متعلق مقدمے میں گرفتار فہیم اکرم کو پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی، این سی سی آئی اے، کے حوالے کر دیا ہے۔ امریکی حکام نے ملزم پر ایک ایسے مبینہ منصوبے میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ہے جس سے امریکی پوسٹل سروس کو 126 ملین ڈالر سے زیادہ نقصان پہنچا۔

این سی سی آئی اے نے 33 سالہ فہیم اکرم کو عدالت میں پیش کرکے تفتیش کے لیے جسمانی ریمانڈ مانگا۔ تفتیشی افسر کے مطابق ملزم مبینہ طور پر اگست 2023 سے ’Labels Bank‘ نامی ویب سائٹ چلا رہا تھا، جہاں جعلی امریکی پوسٹل شپنگ لیبل فروخت کیے جاتے تھے۔ پاکستانی ایجنسی نے معاملے میں تقریباً 35 ارب روپے کی لین دین کا حوالہ دیا ہے۔

امریکی محکمہ انصاف کے مطابق فلوریڈا کی ایک وفاقی گرینڈ جیوری نے ستمبر کے آخر میں فہیم اکرم پر امریکی حکومت کو دھوکا دینے کی سازش، جعلی ڈاک اور وائر فراڈ سمیت مختلف الزامات میں فرد جرم عائد کی تھی۔ امریکی استغاثہ کا الزام ہے کہ متعلقہ ویب سائٹ امریکی پوسٹل سروس کی مصنوعات یا خدمات فروخت کرنے کی مجاز نہیں تھی۔

استغاثہ کے مطابق ویب سائٹ پر شپنگ لیبل تقریباً دو ڈالر فی لیبل کے حساب سے فروخت کیے جاتے تھے، چاہے پیکج کا وزن، حجم یا منزل کچھ بھی ہو۔ امریکی عدالتی ریکارڈ کے مطابق 5,200 سے زیادہ صارفین نے مبینہ طور پر 5.1 ملین سے زیادہ جعلی شپنگ لیبل خریدے۔ امریکی عدالت نے ویب سائٹ ضبط اور بند کرنے کی اجازت بھی دی تھی۔

پاکستانی تفتیش میں 16 بینک اکاؤنٹس کا ذکر سامنے آیا ہے جنہیں مبینہ مالی نیٹ ورک سے جوڑا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق ان میں بعض اکاؤنٹس ملزم اور اس کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر ہیں۔ یہ تمام دعوے تفتیش اور عدالتی جانچ کے تابع ہیں؛ ریمانڈ کا حکم جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں ہے۔

این سی سی آئی اے اب مالی لین دین، ویب سائٹ کے انتظام، مبینہ جعلی لیبل کی فروخت اور دوسرے ممکنہ شریک افراد کے کردار کی چھان بین کرے گی۔ ملزم کے خلاف الزامات کا حتمی فیصلہ عدالت میں ثبوت اور قانونی کارروائی کے بعد ہوگا۔