لاہور کی ایک جوڈیشل مجسٹریٹ عدالت نے امریکی پوسٹل سروس کو مبینہ طور پر 126 ملین ڈالر کا نقصان پہنچانے والے جعلی ڈاک لیبل کے کیس میں گرفتار پاکستانی شہری کو پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے حوالے کردیا ہے۔ ملزم 33 سالہ خانیوال کا رہائشی ہے اور اس پر آن لائن جعلی امریکی ڈاک لیبل فروخت کرنے کا الزام ہے۔
ڈان کے مطابق این سی سی آئی اے نے عدالت سے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ مانگا تھا، تاہم مجسٹریٹ نے درخواست جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے پانچ دن کا ریمانڈ دیا۔ تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم مبینہ طور پر اگست 2023 سے LabelsBank.com نامی ویب سائٹ چلا رہا تھا، جس کے ذریعے 50 لاکھ سے زیادہ جعلی پوسٹیج لیبل فروخت کیے گئے۔
امریکی محکمہ انصاف کے مطابق متعلقہ ویب سائٹ کو یو ایس پوسٹل سروس کی مصنوعات یا خدمات فروخت کرنے کی اجازت حاصل نہیں تھی۔ امریکی استغاثہ کا الزام ہے کہ جعلی لیبل کے ذریعے صارفین پیکج کے وزن، حجم یا منزل سے قطع نظر انتہائی کم نرخ پر ترسیل کروا سکتے تھے، جس سے پوسٹل سروس کو 126 ملین ڈالر سے زیادہ نقصان ہوا۔ یہ اعداد اور دعوے استغاثہ کے الزامات ہیں اور عدالت میں حتمی طور پر ثابت شدہ نتائج نہیں۔
امریکا میں فلوریڈا کی ایک گرینڈ جیوری نے ملزم پر فردِ جرم عائد کی تھی، جبکہ امریکی عدالتی حکم کے تحت متعلقہ ویب سائٹ کو ضبط اور بند کرنے کی اجازت بھی دی گئی۔ پاکستان میں این سی سی آئی اے لاہور زون نے ایک روز قبل ملزم کی گرفتاری کا اعلان کیا تھا۔ ایجنسی کے مطابق اس مبینہ نیٹ ورک کی مالی سرگرمیوں میں 16 بینک اکاؤنٹس استعمال ہوئے، جن میں بعض قریبی رشتہ داروں سے منسوب اکاؤنٹس بھی شامل ہیں۔ ان دعوؤں کی مزید چھان بین جاری ہے۔
این سی سی آئی اے نے بتایا ہے کہ پنجاب، اسلام آباد اور سندھ میں آٹھ خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی تھیں تاکہ ملزم کا سراغ لگایا جا سکے اور مبینہ نیٹ ورک کی تحقیقات کی جا سکیں۔ پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ کے دوران تفتیشی ادارہ ڈیجیٹل ریکارڈ، مالی لین دین، ممکنہ ساتھیوں اور ویب سائٹ کے آپریشن سے متعلق شواہد اکٹھے کرنے کی کوشش کرے گا۔ ملزم کے خلاف الزامات کا حتمی فیصلہ متعلقہ عدالتی کارروائی کے بعد ہوگا۔
