اسلام آباد: نیشنل کمیشن آن دی رائٹس آف چائلڈ اور یونیسف پاکستان کے اشتراک سے جاری ’’ڈسرپٹنگ ہارم اِن پاکستان‘‘ رپورٹ نے اندازہ لگایا ہے کہ ملک میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والے 12 سے 17 سال کے تقریباً ہر 16 میں سے ایک بچے کو ایک سال کے دوران ٹیکنالوجی کے ذریعے جنسی استحصال یا بدسلوکی کی کم از کم ایک صورت کا سامنا ہوا۔ آبادی پر اس شرح کا اطلاق کیا جائے تو متاثرہ بچوں کی تخمینی تعداد تقریباً 15 لاکھ بنتی ہے۔ یہ عدد رپورٹ کا شماریاتی تخمینہ ہے، پولیس مقدمات یا شناخت شدہ متاثرین کی مکمل گنتی نہیں۔

یہ تحقیق سیف آن لائن کی مالی معاونت سے ای سی پی اے ٹی انٹرنیشنل، انٹرپول اور یونیسف آفس آف اسٹریٹجی اینڈ ایویڈنس—انوسینٹی نے تیار کی۔ پاکستان میں 2023 سے 2025 کے دوران جمع کیے گئے مواد میں 12 سے 17 سال کے 1,012 بچوں اور اتنے ہی والدین یا سرپرستوں کا قومی سطح کا گھریلو سروے، قانون نافذ کرنے والے اور عدالتی شعبے کے اہلکاروں سے گفتگو، فرنٹ لائن کارکنوں کے انٹرویوز اور ملکی قوانین و پالیسیوں کا تجزیہ شامل تھا۔

رپورٹ میں ’’ٹیکنالوجی سے سہولت یافتہ‘‘ استحصال کی اصطلاح اس لیے استعمال کی گئی ہے کہ نقصان مکمل طور پر آن لائن بھی ہو سکتا ہے اور ڈیجیٹل رابطے سے شروع ہو کر بالمشافہ بدسلوکی تک بھی پہنچ سکتا ہے۔ تحقیق نے جن خطرات کی نشاندہی کی ان میں آن لائن گرومنگ، جنسی نوعیت کی بلیک میلنگ، مواد کے ذریعے دباؤ، رابطے کی کوشش اور مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ استحصالی مواد شامل ہیں۔ یہ نتائج کسی مخصوص پلیٹ فارم، فرد یا زیر تفتیش مقدمے کے خلاف عدالتی فیصلہ نہیں بلکہ مجموعی تحقیقی تصویر پیش کرتے ہیں۔

سروے کے مطابق گزشتہ سال رپورٹ کیے گئے ایسے واقعات میں 57 فیصد کسی کو نہیں بتائے گئے۔ محققین نے سماجی بدنامی، شرمندگی، متاثرہ بچے کو مورد الزام ٹھہرانے کے رویوں، مدد کے راستوں سے لاعلمی اور ادارہ جاتی خلا کو خاموشی کی ممکنہ وجوہ میں شمار کیا۔ رپورٹ نے یہ بھی خبردار کیا کہ عدم رپورٹنگ کے باعث اصل مسئلہ سروے کے تخمینے سے بڑا ہو سکتا ہے، اگرچہ ہر تخمینے کی طرح اس کے ساتھ نمونہ، طریقۂ کار اور جواب دہندگان کی معلومات کی حدود بھی موجود ہیں۔

این سی آر سی کی چیئرپرسن عائشہ رضا فاروق نے بچوں کے لیے قانون سازی، صدمے سے باخبر اور بچوں پر مرکوز رپورٹنگ و انصاف کے طریقہ کار، نفسیاتی معاونت اور والدین و اساتذہ کی آگاہی بڑھانے پر زور دیا۔ یونیسف پاکستان کی نمائندہ پرنیل آئرن سائیڈ نے روک تھام کے مضبوط نظام اور مجرموں کے ساتھ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے احتساب کی ضرورت بیان کی۔ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے نمائندے نے آن لائن گرومنگ اور سائبر ذریعے سے بچوں کو پھانسنے جیسے جرائم کے خلاف پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ کے مؤثر نفاذ پر زور دیا۔ رپورٹ کی سفارشات اب قانون، تحفظ، تفتیش، متاثرہ بچوں کی معاونت اور پلیٹ فارم ذمہ داری کو ایک مشترکہ قومی ردعمل میں جوڑنے کا مطالبہ کرتی ہیں۔