اسلام آباد: نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے نجی شعبے کے لیے مجوزہ بجلی وہیلنگ نیلامی کے قواعد میں ترامیم منظور کرتے ہوئے ونڈ اور سولر منصوبوں کے ساتھ بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم (بی ای ایس ایس) کو لازمی اہلیتی شرط بنا دیا ہے۔ 4 ستمبر 2026 کے تحریری فیصلے کے مطابق نیلامی میں شریک شمسی یا ہوائی بجلی منصوبے کو اپنی پیداواری سہولت کی فرم کپیسٹی کے کم از کم 10 فیصد کے برابر بیٹری اسٹوریج اسی مقام پر فراہم کرنا ہوگا۔
فیصلے میں بتایا گیا کہ وفاقی حکومت نے مجموعی سالانہ وہیلنگ نیلامی کا حجم 800 میگاواٹ مقرر کیا ہے، جبکہ پہلے مرحلے کا حجم پہلے تجویز کردہ 200 میگاواٹ سے بڑھا کر 400 میگاواٹ کر دیا گیا۔ انڈیپنڈنٹ سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر آف پاکستان (آئی ایس ایم او) کے تخمینے کے مطابق پہلی 400 میگاواٹ نیلامی میں 10 فیصد شرط تقریباً 40 میگاواٹ فرم بیٹری کپیسٹی اور متعلقہ ڈسچارج دورانیے کی بنیاد پر تقریباً 160 میگاواٹ آور ذخیرہ توانائی کے مساوی ہو سکتی ہے۔ حقیقی مقدار ہر کامیاب منصوبے کی فرم کپیسٹی اور منظور شدہ تکنیکی طریقۂ کار سے طے ہوگی۔
نیپرا نے کہا کہ بیٹری کی فرم کپیسٹی کا حساب مارکیٹ کمرشل کوڈ اور فرم کپیسٹی سرٹیفکیشن کے متعلقہ آپریٹنگ طریقۂ کار کے مطابق ہوگا۔ اس میں انورٹر کی گنجائش، دورانیے اور دستیابی کے عوامل شامل ہوں گے۔ بولی دینے والا منصوبہ اپنی تجویز میں کپیسٹی ظاہر کرے گا، جبکہ تنصیب کی تصدیق کارکردگی ضمانت واپس کرنے سے پہلے کی جائے گی۔ مطلوبہ نظام نصب یا برقرار نہ رکھنے کو معاہدے کی خلاف ورزی سمجھا جا سکتا ہے اور کارکردگی ضمانت ضبط ہونے سمیت قواعد کے تحت کارروائی ہو سکتی ہے۔
آئی ایس ایم او نے ریگولیٹر کو بتایا کہ دن کے وقت شمسی پیداوار بڑھنے اور شام میں طلب اچانک اوپر جانے سے پیدا ہونے والی ’ڈک کرو‘، ریمپنگ اور قابلِ تجدید بجلی محدود کرنے کے مسائل کے لیے بیٹری مفید ہو سکتی ہے۔ اس کی نقل کردہ ماڈلنگ میں ونڈ بجلی کی کٹوتی تقریباً 0.3 فیصد پوائنٹ اور سولر کی کٹوتی تقریباً 1.1 فیصد پوائنٹ کم ہونے کا تخمینہ دیا گیا، جبکہ قومی مارجنل قیمت پر اثر معمولی اور قابلِ اعتماد فراہمی کا فائدہ مثبت مگر فی الحال ناقابلِ مقدار بتایا گیا۔ نیپرا نے اسی بنا پر شرط کو ابتدائی مرحلے کا متناسب بازار اور منصوبہ جاتی خطرہ کم کرنے والا اقدام قرار دیا، نہ کہ بڑے پیمانے پر لوڈ شفٹنگ کا مکمل حل۔
ریگولیٹر نے 10 فیصد حد کو پہلے مرحلے کے لیے منظور کیا، اگرچہ مشاورت میں بعض فریقوں نے 20 فیصد شرط، آزاد بیٹری منصوبوں یا کارکردگی پر مبنی متبادل کی تجاویز دی تھیں۔ فیصلے کے مطابق زیادہ لازمی حد ابتدائی سرمایہ لاگت اور نفاذ کا خطرہ بڑھا کر چھوٹے شرکا کی شرکت کم کر سکتی ہے۔ آئی ایس ایم او کو پہلے درخواستِ تجاویز جاری کرنے سے قبل اپنی مالی ماڈلنگ شائع کرنے اور عملی تجربے، لاگت، دستیابی، چارج و ڈسچارج رویے اور مسابقت کا بعد میں جامع جائزہ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
پہلی نیلامی کے لیے درخواستیں آر ایف پی شائع ہونے کے بعد دو ماہ کے اندر جمع ہوں گی اور یہ مدت مقرر اور ناقابلِ توسیع ہوگی؛ بعد کی نیلامیوں کے لیے ایک ماہ کی مدت رکھی گئی ہے۔ شکایات کے لیے الگ تین رکنی کمیٹی بنے گی جس کی سربراہی پرائیویٹ پاور اینڈ انفراسٹرکچر بورڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر کریں گے اور آئی ایس ایم او بورڈ کے دو آزاد ڈائریکٹر ارکان ہوں گے۔ یہ فیصلہ نیلامی کے عمل اور اہلیت کے قواعد کی منظوری ہے؛ کسی مخصوص ونڈ یا سولر منصوبے کو ابھی پیداواری لائسنس، کامیاب بولی یا تعمیر کی حتمی منظوری نہیں دی گئی۔




