نائجیریا کے وفاقی صحت حکام نے دارالحکومت ابوجا کے وفاقی دارالحکومت علاقے میں بنڈی بگیو وائرس سے ہونے والے ایبولا کے ایک درآمدی کیس کی تصدیق کی ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق مریضہ ایک خاتون ہے جس نے حال ہی میں یوگنڈا کا سفر کیا تھا۔ وہ 3 اکتوبر کو نائجیریا پہنچی، 7 اکتوبر کو علامات ظاہر ہوئیں اور 11 اکتوبر کو ابوجا کے ایک نجی طبی مرکز سے علاج کے لیے رجوع کیا۔ لیبارٹری جانچ میں بنڈی بگیو وائرس کی تصدیق ہوئی اور مریضہ کو علیحدہ رکھ کر طبی نگہداشت فراہم کی جا رہی ہے۔

نائجیریا کی وزارت صحت اور نائجیریا سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن نے واقعے کے بعد رابطہ افراد کی تلاش اور نگرانی شروع کر دی ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق اب تک 44 افراد کی شناخت کی گئی ہے جن کے ممکنہ رابطے کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اس میں طبی عملے، مریضوں، تیمارداروں اور سفری رابطوں کی جانچ شامل ہو سکتی ہے۔ نجی ہسپتال میں انفیکشن کی روک تھام اور کنٹرول کے اقدامات بھی سخت کیے گئے ہیں جہاں مریضہ نے علاج کرایا تھا۔

عالمی ادارۂ صحت نے واضح کیا ہے کہ ایک درآمدی کیس کی موجودگی بذاتِ خود نائجیریا میں وسیع مقامی وبا کی تصدیق نہیں کرتی۔ ادارہ اور اس کے شراکت دار نائجیریا کے حکام کے ساتھ کیس کی تفتیش، رابطہ افراد کی نگرانی، لیبارٹری تیاری، طبی ٹیموں کی حفاظت اور ضروری حفاظتی سامان کی فراہمی پر کام کر رہے ہیں۔ ڈبلیو ایچ او نے خطے کے دیگر ممالک کو بھی نگرانی، فوری تشخیص اور سرحدی داخلی مقامات پر تیاری برقرار رکھنے کی ہدایت کی ہے۔

بنڈی بگیو وائرس کی موجودہ لہر کا آغاز جمہوریہ کانگو میں ہوا اور بعد میں دیگر ممالک میں درآمدی یا منسلک کیس سامنے آئے۔ عالمی ادارۂ صحت نے سفر یا تجارت پر عمومی پابندی کی سفارش نہیں کی بلکہ جلد شناخت، رابطہ افراد کی مؤثر نگرانی اور انفیکشن کنٹرول کو بنیادی اقدامات قرار دیا ہے۔ نائجیریا نے 2014 کی ایبولا لہر کے دوران محدود کیسز کو قابو کیا تھا، تاہم موجودہ واقعے میں صحت حکام نے احتیاط اور مسلسل نگرانی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔