پاکستان نے اقوام متحدہ کی سائنسی کمیٹی برائے جوہری تابکاری کے اثرات، UNSCEAR، کے کام کو مضبوط بنانے کے لیے مناسب، قابلِ پیش گوئی اور پائیدار وسائل کی فراہمی پر زور دیا ہے۔ پاکستان کے مستقل مشن میں فرسٹ سیکریٹری انصر شاہ نے یہ مؤقف اقوام متحدہ کی چوتھی کمیٹی کے عمومی مباحثے میں پیش کیا، جہاں جوہری تابکاری کے اثرات اور اس شعبے میں سائنسی جائزے کی اہمیت زیر بحث آئی۔
پاکستانی نمائندے نے کہا کہ تابکاری کے طبی، صنعتی اور جوہری استعمال سے متعلق پالیسی سازی کے لیے معتبر سائنسی شواہد اور مسلسل جائزہ بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق UNSCEAR کا کام رکن ممالک اور بین الاقوامی اداروں کو تابکاری کے اثرات سمجھنے اور حفاظت سے متعلق فیصلوں کے لیے سائنسی بنیاد فراہم کرتا ہے، اس لیے کمیٹی کے کام کو وسائل کی غیر یقینی صورتحال سے متاثر نہیں ہونا چاہیے۔
انصر شاہ نے پاکستان کے قومی تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں تابکاری کی حفاظت کے لیے جامع ریگولیٹری فریم ورک موجود ہے جو بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی، آئی اے ای اے، کے تیار کردہ بین الاقوامی معیارات سے ہم آہنگ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کینسر کے علاج کے مراکز میں تابکاری سے ہونے والی نمائش کی نگرانی کرتا ہے اور جوہری تنصیبات کے آس پاس عوام کو ممکنہ تابکاری کے اثرات کا بھی جائزہ لیا جاتا ہے۔
پاکستان کا یہ بیان کسی نئے جوہری منصوبے یا تابکاری کے واقعے کا اعلان نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے سائنسی نظام کی ادارہ جاتی صلاحیت اور وسائل سے متعلق پالیسی مؤقف ہے۔ اس میں زور اس بات پر ہے کہ تابکاری کے اثرات سے متعلق عالمی سائنسی جائزہ مسلسل، غیر جانب دار اور تکنیکی معیار کے مطابق جاری رہ سکے۔ پاکستان نے اپنے قومی ریگولیٹری اور نگرانی کے نظام کو اسی وسیع تر بین الاقوامی حفاظتی ڈھانچے سے جوڑا ہے۔
