اسلام آباد: نیشنل لاجسٹکس کارپوریشن (این ایل سی) اور ریلوے ڈویژن نے پاکستان کے ملٹی موڈل ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس نیٹ ورک کو مضبوط بنانے کے لیے اسٹریٹجک تعاون کا فریم ورک طے کر لیا ہے۔ معاہدے کا مقصد دونوں اداروں کی موجودہ صلاحیتوں کو یکجا کر کے مال برداری کے رابطوں کو بہتر بنانا، نئے کاروباری مواقع تلاش کرنا اور قومی معیشت کے لیے زیادہ مربوط لاجسٹکس حل تیار کرنا ہے۔

فریم ورک پر دستخط کی تقریب میں وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی اور دونوں اداروں کے سینئر حکام شریک ہوئے۔ طے شدہ تعاون میں لاجسٹکس انفراسٹرکچر، فریٹ ٹرانسپورٹ اور مربوط سپلائی چین سروسز کی ترقی شامل ہے۔ منصوبہ یہ ہے کہ این ایل سی کے زمینی لاجسٹکس تجربے اور پاکستان ریلوے کے ریل نیٹ ورک کو اس انداز میں استعمال کیا جائے کہ سامان کی نقل و حمل زیادہ مؤثر اور تجارتی طور پر قابل عمل بن سکے۔

وزیر ریلوے نے اس موقع پر دونوں اداروں کے دیرینہ تعاون کا حوالہ دیتے ہوئے توقع ظاہر کی کہ نیا فریم ورک ملک بھر میں فریٹ ٹرانسپورٹ کو مزید سہولت دے گا۔ این ایل سی پہلے ہی پاکستان ریلوے کی فریٹ ٹرینوں کے بڑے صارفین میں شامل ہے، اس لیے نیا انتظام موجودہ کاروباری تعلق کو مزید منظم اور وسیع کرنے کی بنیاد فراہم کر سکتا ہے۔

دونوں ادارے کراچی میں ملٹی موڈل لاجسٹکس پارک اور ڈیڈیکیٹڈ فریٹ کوریڈور کی تیاری پر بھی کام کر رہے ہیں۔ یہ منصوبے بندرگاہی اور اندرون ملک مال برداری کے درمیان بہتر رابطہ پیدا کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔ پاکستان میں بڑی مقدار میں سامان سڑکوں کے ذریعے منتقل ہوتا ہے، جبکہ ریل فریٹ کی توسیع سے طویل فاصلے کی نقل و حمل میں متبادل گنجائش پیدا ہو سکتی ہے۔

فریم ورک فوری طور پر کسی ایک مخصوص منصوبے کی تکمیل کا اعلان نہیں بلکہ تعاون کے لیے ایک وسیع ادارہ جاتی بنیاد ہے۔ آئندہ پیش رفت کا دارومدار ان کاروباری اور انفراسٹرکچر منصوبوں پر ہوگا جنہیں دونوں ادارے اس فریم ورک کے تحت قابل عمل قرار دے کر آگے بڑھاتے ہیں۔