پاکستان کی بڑی صنعتوں کی پیداوار نے جولائی 2026 میں سالانہ اور ماہانہ دونوں بنیادوں پر اضافہ ریکارڈ کیا ہے۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے عبوری اعداد و شمار میں لارج اسکیل مینوفیکچرنگ، یعنی ایل ایس ایم، کی پیداوار جولائی میں گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں 3.03 فیصد بڑھی۔

ادارہ شماریات کے مطابق جولائی 2026 میں کوانٹم انڈیکس آف مینوفیکچرنگ 119.13 پوائنٹس ریکارڈ ہوا، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 115.62 پوائنٹس تھا۔ ماہانہ بنیاد پر بھی نمایاں اضافہ سامنے آیا؛ جون 2026 میں انڈیکس 108.78 پوائنٹس تھا جو جولائی میں بڑھ کر 119.13 پوائنٹس ہوگیا، یوں ماہ بہ ماہ نمو 9.51 فیصد رہی۔

رپورٹ کے مطابق مجموعی صنعتی نمو میں آٹوموبائل، کاٹن یارن، گارمنٹس اور پیٹرولیم مصنوعات سمیت کئی شعبوں کی کارکردگی نے کردار ادا کیا۔ آٹوموبائل سیکٹر کو نمایاں محرک قرار دیا گیا اور جولائی میں اس شعبے کی پیداوار میں 57.01 فیصد اضافے کا ذکر کیا گیا۔ دیگر ٹرانسپورٹ آلات، تمباکو، ملبوسات، فیبریکیٹڈ میٹل، برقی آلات، کمپیوٹر و الیکٹرانکس، نان میٹالک منرل مصنوعات اور فرنیچر سمیت متعدد شعبوں میں بھی مختلف شرحوں سے اضافہ رپورٹ ہوا۔

دوسری طرف تمام صنعتی شعبوں کی سمت یکساں نہیں رہی۔ رپورٹ میں ٹیکسٹائل، دواسازی، خوراک، کیمیکل، کاغذ و بورڈ، آئرن و اسٹیل اور مشروبات سمیت بعض شعبوں میں سالانہ بنیاد پر کمی کا ذکر ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مجموعی ایل ایس ایم انڈیکس میں اضافہ ہونے کے باوجود صنعت کے اندر شعبہ جاتی کارکردگی میں فرق موجود ہے۔

یہ اعداد و شمار عبوری ہیں، اس لیے آئندہ نظرثانی کے نتیجے میں ان میں تبدیلی ممکن ہے۔ صنعتی پیداوار کے رجحان کو سمجھنے کے لیے آنے والے مہینوں کے ایل ایس ایم اعداد و شمار، توانائی اور خام مال کی لاگت، برآمدی طلب اور مقامی کھپت جیسے عوامل بھی اہم رہیں گے۔ فی الحال جولائی کا سرکاری ڈیٹا یہ بتاتا ہے کہ بڑی صنعتوں کا مجموعی اشاریہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 3.03 فیصد اور جون کے مقابلے میں 9.51 فیصد بلند رہا۔