اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کی تازہ نظرثانی میں پیٹرول کی قیمت میں 6 روپے 88 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 5 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کے نوٹیفکیشن میں پیٹرول کی نئی قیمت 391 روپے 22 پیسے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 421 روپے 45 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ یہ قیمتیں جمعرات 17 ستمبر 2026 تک مؤثر رہیں گی۔

اوگرا کے مطابق قیمتوں میں تازہ تبدیلی کا بنیادی تعلق بین الاقوامی مارکیٹ میں پیٹرول اور ڈیزل کے بلند نرخوں، پلاٹس ریٹس، پریمیم اور دیگر متعلقہ عوامل سے ہے۔ عالمی توانائی منڈی حالیہ دنوں میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور رسد کے خدشات کے باعث غیر معمولی اتار چڑھاؤ کا سامنا کر رہی ہے، جس کے اثرات پاکستان جیسے درآمدی ایندھن پر انحصار کرنے والے ممالک کی مقامی قیمتوں پر بھی پڑ رہے ہیں۔

یہ اضافہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ایک روز قبل بھی حکومت نے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کے نرخ بڑھائے تھے۔ گزشتہ نظرثانی میں پیٹرول 384 روپے 34 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 415 روپے 83 پیسے فی لیٹر مقرر ہوا تھا۔ نئی نظرثانی کے بعد دونوں مصنوعات کی خوردہ قیمتیں مزید بلند سطح پر پہنچ گئی ہیں۔

ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل تبدیلی گھریلو بجٹ کے ساتھ ٹرانسپورٹ، مال برداری، زراعت اور صنعت کی لاگت کے لیے بھی اہم ہے۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل بڑے پیمانے پر تجارتی نقل و حمل اور زرعی مشینری میں استعمال ہوتا ہے، اس لیے اس کی قیمت میں اضافہ سامان کی ترسیل اور پیداواری اخراجات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ پیٹرول کی قیمت میں اضافہ موٹر سائیکلوں اور چھوٹی گاڑیوں کے صارفین کے روزمرہ سفری اخراجات بڑھاتا ہے۔

حکومت نے حالیہ مہنگے ایندھن کے تناظر میں مخصوص چھوٹی گاڑیوں اور دو و تین پہیوں والی سواریوں کے لیے الگ ریلیف اقدامات کا بھی اعلان کیا ہے، تاہم تازہ نوٹیفکیشن عمومی مارکیٹ کے بنیادی نرخوں سے متعلق ہے۔ آئندہ قیمتوں کا تعین عالمی پٹرولیم نرخوں، درآمدی لاگت، پریمیم اور سرکاری پالیسی کے تحت ہونے والی اگلی نظرثانی پر منحصر ہوگا۔