کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں فروخت کے دباؤ کے باعث کے ایس ای 100 انڈیکس 1,370.52 پوائنٹس، یعنی 0.81 فیصد، کمی کے ساتھ 168,021.80 پوائنٹس پر بند ہوا۔ کاروباری سیشن کے دوران انڈیکس 169,382.01 کی بلند ترین اور 167,849.70 کی کم ترین سطح کے درمیان رہا۔ مارکیٹ میں آٹو اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکوں، تیل و گیس کی تلاش اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں سمیت کئی بڑے شعبوں میں دباؤ دیکھا گیا۔

مارکیٹ تجزیہ کاروں نے فروخت کے رجحان کو بلند عالمی تیل قیمتوں، مشرقِ وسطیٰ میں رسد سے متعلق غیر یقینی صورت حال اور مجموعی معاشی خدشات سے جوڑا۔ خلیج اور اہم بحری راستوں میں رکاوٹوں کے باعث ایشیائی منڈیوں پر بھی اثر پڑ رہا ہے۔ عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں دو روزہ تیزی کے بعد کچھ کمی ضرور ہوئی، تاہم سطح اب بھی بلند رہی اور سرمایہ کار ممکنہ درآمدی لاگت اور مہنگائی کے اثرات کا جائزہ لیتے رہے۔

جے ایس گلوبل کے تجزیہ کار کے مطابق انڈیکس کمزور آغاز کے بعد بیشتر سیشن دباؤ میں رہا اور کم ترین سطح تک گرنے کے بعد محدود بحالی ہوئی۔ کمرشل بینک، فرٹیلائزر اور سیمنٹ کے حصص نمایاں دباؤ کا سبب بنے، جبکہ تیل و گیس، ٹیکنالوجی اور پاور جنریشن کے شعبوں نے بھی انڈیکس پر وزن ڈالا۔

مارکیٹ میں مجموعی کاروباری حجم 356.1 ملین حصص رہا، جو ایک روز پہلے 372 ملین حصص تھا۔ حصص کی مجموعی مالیت تقریباً 19.5 ارب روپے ریکارڈ کی گئی۔ غیر ملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے تقریباً 306 ملین روپے مالیت کے حصص کی خالص فروخت رپورٹ ہوئی۔

اسٹیٹ بینک کی جانب سے پالیسی ریٹ 11.50 فیصد پر برقرار رکھنے کے باوجود سرمایہ کاروں کی توجہ بیرونی دباؤ، توانائی کی قیمتوں اور مہنگائی کے ممکنہ اثرات پر مرکوز رہی۔ بلند تیل قیمتیں پاکستان کے درآمدی بل اور مقامی ایندھن نرخوں پر اثر انداز ہو سکتی ہیں، جس کے باعث شرح سود اور کارپوریٹ لاگت کے بارے میں توقعات بھی تبدیل ہو سکتی ہیں۔

آنے والے کاروباری سیشنز میں مارکیٹ کی سمت کا انحصار عالمی تیل قیمتوں، مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال، بحری رسد کے راستوں اور کمپنیوں کے مالی نتائج پر رہنے کا امکان ہے۔ تجزیہ کاروں کے تبصرے مستقبل کی پیش گوئی نہیں بلکہ موجودہ مارکیٹ عوامل کی تشریح ہیں، اس لیے سرمایہ کاری کے فیصلوں میں تازہ اعدادوشمار اور انفرادی خطرات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔