کراچی: پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ مالی سال 2027 کے پہلے دو ماہ، جولائی اور اگست، میں 543 ملین ڈالر ریکارڈ کیا گیا، جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے 853 ملین ڈالر کے مقابلے میں تقریباً 36 فیصد کم ہے۔ اسٹیٹ بینک کے تازہ اعدادوشمار کے مطابق بیرون ملک پاکستانیوں کی ترسیلات زر میں مضبوط اضافے نے اشیا کی تجارت میں بڑے خسارے کے باوجود مجموعی بیرونی کھاتے کو سہارا دیا۔

صرف اگست میں کرنٹ اکاؤنٹ 98 ملین ڈالر خسارے میں رہا۔ جولائی کا خسارہ نظرثانی کے بعد 445 ملین ڈالر بتایا گیا، جبکہ اگست 2025 میں ماہانہ خسارہ 324 ملین ڈالر تھا۔ اگست 2026 میں اشیا اور خدمات کی مجموعی برآمدات سالانہ بنیاد پر تقریباً پانچ فیصد بڑھ کر 3.33 ارب ڈالر ہوئیں، لیکن درآمدات زیادہ تیزی سے بڑھیں اور 6.64 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔

کارکنوں کی ترسیلات زر اگست میں 3.66 ارب ڈالر رہیں، جو ایک سال پہلے کے 3.14 ارب ڈالر کے مقابلے میں تقریباً 17 فیصد زیادہ ہیں۔ جولائی اور اگست کی مجموعی ترسیلات زر تقریباً 7.3 ارب ڈالر رہیں اور سالانہ بنیاد پر 14.7 فیصد اضافہ ہوا۔ یہی رقوم بیرونی ادائیگیوں کے توازن میں اہم سہارا بنیں۔

اشیا کی برآمدات اگست میں 2.51 ارب ڈالر جبکہ درآمدات 5.68 ارب ڈالر رہیں۔ اس طرح ماہانہ اشیائی تجارتی خسارہ 3.17 ارب ڈالر تک پہنچا۔ دو ماہ کے دوران اشیا کا خسارہ 7.12 ارب ڈالر رہا، جو گزشتہ سال کی اسی مدت سے 18.1 فیصد زیادہ ہے۔ دوسری جانب خدمات کی برآمدات میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا اور اگست میں یہ 872 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں۔

ٹیلی کمیونیکیشن، کمپیوٹر اور انفارمیشن سروسز کی برآمدات اگست میں 394 ملین ڈالر رہیں، جو سالانہ بنیاد پر 17 فیصد زیادہ ہیں۔ جولائی اور اگست میں آئی ٹی برآمدات مجموعی طور پر 811 ملین ڈالر تک پہنچیں۔ اسی عرصے میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں بھی بہتری آئی اور اگست میں خالص ایف ڈی آئی 316 ملین ڈالر ریکارڈ ہوئی۔

اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ ترسیلات زر اور خدمات کی برآمدات بیرونی کھاتے کو سہارا دے رہی ہیں، تاہم اشیا کی درآمدات کا تیز اضافہ اور تجارتی خسارہ اب بھی اہم دباؤ ہیں۔ آنے والے مہینوں میں کرنٹ اکاؤنٹ کی سمت کا انحصار برآمدی آمدن، ترسیلات زر، عالمی توانائی قیمتوں اور درآمدی طلب پر ہوگا۔