سیول: جنوبی کوریا کی فوج نے کہا ہے کہ شمالی کوریا نے بدھ 4 نومبر کو اپنے مشرقی ساحل سے سمندر کی جانب متعدد میزائل داغے۔ رائٹرز کے مطابق یہ ایک ماہ کے دوران شمالی کوریا کی جانب سے ہتھیاروں سے متعلق چوتھا لانچ ہے، جس نے جزیرہ نما کوریا میں سلامتی اور عسکری سرگرمیوں سے متعلق خدشات کو دوبارہ نمایاں کیا ہے۔

جنوبی کوریا کے حکام نے ابتدائی طور پر ایک نامعلوم پروجیکٹائل کے مشرقی سمندر کی جانب داغے جانے کی اطلاع دی، بعد میں فوجی معلومات میں متعدد میزائلوں کا ذکر کیا گیا۔ ایسی اطلاعات میں ہتھیار کی حتمی نوعیت، پرواز کا فاصلہ اور تکنیکی صلاحیت عموماً مزید تجزیے کے بعد واضح ہوتی ہے، اس لیے ابتدائی فوجی بیان کو اسی دائرے میں دیکھا جا رہا ہے۔

شمالی کوریا حالیہ برسوں میں مختلف فاصلے اور صلاحیت کے بیلسٹک اور کروز میزائلوں کے تجربات کرتا رہا ہے۔ پیانگ یانگ ان پروگراموں کو اپنی دفاعی اور بازدار صلاحیت کا حصہ قرار دیتا ہے، جبکہ جنوبی کوریا، جاپان اور ان کے اتحادی متعدد تجربات کو علاقائی استحکام کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔ تازہ لانچ بھی ایسے وقت ہوا ہے جب خطے میں فوجی تیاری، مشترکہ مشقوں اور شمالی کوریا کے جوہری و میزائل پروگرام پر سفارتی اختلافات برقرار ہیں۔

جنوبی کوریا کی فوج معمول کے مطابق شمالی کوریا کے میزائل لانچز کی نگرانی امریکا اور جاپان کے متعلقہ اداروں کے ساتھ معلومات کے تبادلے کے ذریعے کرتی ہے۔ تازہ واقعے کے بعد بھی توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ میزائل کس قسم کے تھے، کہاں سے داغے گئے، کتنی دور تک گئے اور آیا ان میں کسی نئی تکنیکی صلاحیت کا مظاہرہ کیا گیا۔

رائٹرز کی رپورٹ میں فوری طور پر کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں دی گئی۔ شمالی کوریا کی جانب سے لانچ کے مقاصد یا میزائلوں کی مکمل تکنیکی تفصیل کی آزادانہ تصدیق بھی فوری طور پر سامنے نہیں آئی۔ اس لیے خبر میں جنوبی کوریا کے فوجی دعوے اور دستیاب مشاہدات کو الگ رکھتے ہوئے مزید سرکاری معلومات کا انتظار کیا جا رہا ہے۔