پشاور: شمالی وزیرستان کے عیدک علاقے میں سکیورٹی فورسز کے ایک انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران سات مبینہ دہشت گرد ہلاک ہوئے ہیں۔ ریڈیو پاکستان نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ فورسز نے علاقے میں موجود شدت پسندوں کا تعاقب کیا اور ان کے ٹھکانوں کو تباہ کیا۔ ڈان نے بھی سرکاری میڈیا کے حوالے سے اسی کارروائی اور سات ہلاکتوں کی رپورٹ دی ہے۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق کارروائی عیدک کے علاقے میں کی گئی اور ہلاک ہونے والے افراد کو سرکاری ذرائع نے ’فتنہ الخوارج‘ سے وابستہ قرار دیا۔ خبر میں یہ بھی کہا گیا کہ سکیورٹی فورسز نے مبینہ شدت پسندوں کے زیر استعمال ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ تاہم دستیاب ابتدائی رپورٹوں میں ہلاک افراد کی شناخت، تنظیمی عہدوں، برآمد ہونے والے اسلحے یا کارروائی کے مکمل دورانیے کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

ایک روز قبل، یکم اکتوبر کو بھی ریڈیو پاکستان نے شمالی وزیرستان میں ایک انٹیلی جنس کارروائی کی اطلاع دی تھی جس میں مبینہ طور پر کئی ٹھکانے اور سرنگیں تباہ کرنے اور دھماکا خیز مواد برآمد کرنے کا ذکر کیا گیا تھا۔ 2 اکتوبر کی تازہ رپورٹ نے عیدک آپریشن میں سات ہلاکتوں کی مخصوص تعداد بتائی ہے۔ دستیاب رپورٹنگ سے یہ مکمل طور پر واضح نہیں کہ دونوں اطلاعات ایک ہی وسیع کارروائی کے مختلف مراحل سے متعلق ہیں یا الگ الگ آپریشنز ہیں، اس لیے انہیں بلا ثبوت ایک واقعہ قرار نہیں دیا جا رہا۔

صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی عیدک کے آپریشن پر سکیورٹی فورسز کی تعریف کی۔ ریڈیو پاکستان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں کو جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ یہ بیانات حکومتی مؤقف کی نمائندگی کرتے ہیں اور انہیں آپریشن کے آزادانہ فیلڈ ویریفیکیشن کا متبادل نہیں سمجھا جانا چاہیے۔

شمالی وزیرستان طویل عرصے سے عسکریت پسندوں کے خلاف سکیورٹی کارروائیوں کا مرکز رہا ہے اور حالیہ مہینوں میں خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کی متعدد اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ اس واقعے سے متعلق تصدیق شدہ تفصیل فی الحال انہی سرکاری اور معتبر میڈیا رپورٹس تک محدود ہے۔

خبر میں ہلاک ہونے والوں کو ’مبینہ دہشت گرد‘ اس لیے کہا جا رہا ہے کہ ان کی حیثیت سے متعلق معلومات سکیورٹی ذرائع کے بیان پر مبنی ہیں اور دستیاب مواد میں کسی عدالتی یا آزاد تحقیقی عمل کی تفصیل موجود نہیں۔ مزید سرکاری معلومات سامنے آنے کی صورت میں واقعے کی مکمل تصویر واضح ہو سکے گی۔