پشاور: شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائی کی جس میں پانچ دہشت گرد ہلاک اور دو زخمی ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ ڈان نے سرکاری نشریاتی ادارے ریڈیو پاکستان کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ آپریشن منگل، 6 اکتوبر کو کیا گیا اور فورسز نے مبینہ عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔
سرکاری ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد کا تعلق کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے بتایا گیا، جس کے ارکان کے لیے ریاستی ادارے ”فتنہ الخوارج“ کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔ تاہم دستیاب رپورٹ میں ہلاک یا زخمی افراد کی شناخت، آپریشن کے مقام کی مزید تفصیل یا آزادانہ تصدیق فراہم نہیں کی گئی۔ اسی لیے ہلاکتوں اور وابستگی سے متعلق تفصیلات کو سرکاری دعوے کے طور پر ہی بیان کیا جا رہا ہے۔
صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف نے کارروائی پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا۔ سرکاری بیان کے مطابق صدر نے کہا کہ بروقت اور مؤثر کارروائیاں دہشت گرد عناصر کے منصوبے ناکام بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے تک کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی اور پائیدار امن حکومت کی ترجیح ہے۔
خیبر پختونخوا، بالخصوص ضم اضلاع اور شمالی وزیرستان، حالیہ مہینوں میں مسلسل سکیورٹی واقعات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ڈان کے مطابق 2 اکتوبر کو بھی شمالی وزیرستان میں ایک الگ انٹیلی جنس آپریشن میں سات دہشت گرد ہلاک ہونے کا سرکاری دعویٰ سامنے آیا تھا، جبکہ ستمبر کے آخر اور اکتوبر کے آغاز میں صوبے کے مختلف علاقوں میں متعدد کارروائیاں رپورٹ ہوئیں۔
یہ خبر ایک مخصوص، الگ آپریشن سے متعلق ہے اور اسے سابقہ کارروائیوں کے ساتھ خلط نہیں کیا جانا چاہیے۔ واقعے سے متعلق مزید تفصیلات، شناختیں یا آزادانہ شواہد سامنے آنے کی صورت میں صورتحال واضح ہو سکتی ہے۔

