اسلام آباد: وفاقی حکومت نے دارالحکومت کے متنازع ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو منصوبے کو فائیو اسٹار ہوٹل میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی کے مطابق وفاقی کابینہ نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی سفارشات منظور کر لی ہیں، جس کے بعد منصوبے کی عمارتیں باضابطہ طور پر کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کی ملکیت بن گئی ہیں۔

وزیر داخلہ نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ متعلقہ پلاٹ بنیادی طور پر ہوٹل کے لیے مختص تھا اور حکومت اب اسی مقصد کے مطابق عمارت کو استعمال کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ان کے مطابق سی ڈی اے ایک معروف بین الاقوامی ہوٹل چین کے ساتھ معاہدہ کرے گا اور عمارت کی ہوٹل میں تبدیلی کا عمل آنے والے مہینوں میں شروع کیا جائے گا۔

یہ فیصلہ اس منصوبے کی تیاری، زمین کے استعمال اور اپارٹمنٹس کی فروخت سے متعلق طویل عرصے سے جاری تنازع کے پس منظر میں کیا گیا ہے۔ کابینہ کی منظوری سے قبل جے آئی ٹی نے منصوبے سے متعلق معاملات کا جائزہ لیا اور اپنی سفارشات حکومت کو پیش کیں۔ حکام کے مطابق تحقیق میں منصوبے کی ترقی اور اپارٹمنٹس کی فروخت کے عمل میں سنگین بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی تھی۔

محسن نقوی نے کہا کہ اپارٹمنٹ مالکان کو مناسب قیمت کے تعین کے بعد نقد ادائیگی کے ذریعے معاوضہ دیا جائے گا۔ ان کے مطابق مالی ایڈجسٹمنٹ کو کراچی انٹربینک آفرڈ ریٹ، یعنی کیبور، سے منسلک کیا جائے گا۔ تاہم ہر مالک کو ملنے والی حتمی رقم اور ادائیگی کے عملی طریقہ کار کا انحصار متعلقہ ویلیوایشن اور قانونی و انتظامی عمل پر ہوگا۔

ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو اسلام آباد کے اہم ترین سرکاری اور آئینی اداروں کے قریب واقع بلند عمارتوں کا منصوبہ ہے اور اس کے قانونی و انتظامی معاملات کئی برس سے مختلف فورمز پر زیر بحث رہے ہیں۔ حکومت کے تازہ فیصلے سے منصوبے کے مستقبل کے استعمال کی سمت واضح ہوئی ہے، تاہم ہوٹل چین کے انتخاب، تبدیلی کے اخراجات، تعمیراتی یا تزئینی کام اور متاثرہ اپارٹمنٹ مالکان کے معاوضوں سے متعلق مزید تفصیلات متعلقہ اداروں کی آئندہ کارروائی میں سامنے آئیں گی۔

سی ڈی اے کو اب کابینہ کے منظور کردہ فیصلے کے مطابق منصوبے کے تجارتی استعمال، معاہدوں اور متاثرہ فریقوں کے معاملات کو قانون اور طے شدہ طریقہ کار کے تحت آگے بڑھانا ہوگا۔