لاہور: پنجاب کے محکمہ آبپاشی نے ربیع کے جاری سیزن میں نہری پانی کی قلت کے دوران پانی چوری کے خلاف صوبہ بھر میں کارروائیاں تیز کرتے ہوئے 200 مقدمات درج کرائے ہیں، جن کے نتیجے میں 63 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ ڈان کی 5 نومبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق یہ کارروائی 15 اکتوبر سے شروع ہونے والے ربیع سیزن کے دوران کی گئی اور محکمہ کی فیلڈ ٹیموں نے اب تک 19,436 نہری آؤٹ لیٹس کا معائنہ کیا ہے۔

محکمہ آبپاشی کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق معائنوں کے دوران 1,311 ایسے آؤٹ لیٹس یا موگے شناخت کیے گئے جن میں مبینہ طور پر ردوبدل کیا گیا تھا۔ ان میں سے 1,148 کی مرمت یا درستگی مکمل کی جا چکی ہے۔ اس کے علاوہ غیر قانونی پائپ، نہر میں کٹ لگانے اور پانی کے بہاؤ کو غیر مجاز طریقے سے موڑنے سمیت 737 دیگر خلاف ورزیاں سامنے آئیں، جن میں سے 718 کو درست کرنے کی کارروائی کی گئی۔

محکمہ نے 715 قانونی نوٹس مقامی پولیس کو بھجوائے اور پانی چوری کے معاملات میں مجموعی طور پر 9 لاکھ 15 ہزار 500 روپے جرمانہ عائد کیا۔ حکام کے مطابق مقدمات اور گرفتاریاں بالخصوص بار بار خلاف ورزی کرنے، آؤٹ لیٹس کو غیر قانونی طور پر چوڑا کرنے اور سائفن پائپ نصب کرنے جیسے معاملات میں کی گئیں۔ کارروائیوں میں دن رات نگرانی، رات کے وقت مشترکہ آپریشن اور مقامی سطح پر آگاہی بھی شامل ہے۔

یہ مہم ایسے وقت میں جاری ہے جب انڈس ریور سسٹم اتھارٹی نے ربیع 2026-27 کے لیے پانی کی دستیابی 29.18 ملین ایکڑ فٹ بتائی ہے، جبکہ 1991 کے واٹر اکارڈ کے تحت ضرورت 38 ملین ایکڑ فٹ بنتی ہے۔ اس کمی کے باعث صوبائی حصوں میں کمی کی گئی اور پنجاب کے لیے 15.564 ملین ایکڑ فٹ پانی مختص کیا گیا ہے۔ محکمہ آبپاشی کا مؤقف ہے کہ قلت کے ماحول میں غیر قانونی پانی نکالنے سے نہروں کے آخری سروں پر موجود کاشتکار زیادہ متاثر ہوتے ہیں، اس لیے مساوی تقسیم یقینی بنانا خاص طور پر گندم کی فصل کے لیے اہم ہے۔

زون وار اعداد میں بہاولپور میں سب سے زیادہ 621 تبدیل شدہ موگے رپورٹ ہوئے، فیصل آباد میں 326 اور لاہور زون میں 121 کیس سامنے آئے۔ مقدمات کے اعتبار سے سرگودھا میں 50، بہاولپور میں 44 اور ملتان زون میں 33 ایف آئی آر درج کی گئیں۔ یہ اعداد محکمہ آبپاشی کی انتظامی کارروائی کی موجودہ تصویر پیش کرتے ہیں؛ ہر مقدمے میں انفرادی ذمہ داری کا حتمی تعین متعلقہ تفتیش اور عدالتی عمل کے مطابق ہوگا۔