پاکستان اور 18 دیگر ممالک نے کولمبیا کی جانب سے یروشلم میں سفارتخانہ کھولنے کے فیصلے کی مشترکہ طور پر مذمت کی ہے اور بوگوٹا حکومت سے کہا ہے کہ وہ اس اقدام پر نظرثانی کرتے ہوئے اسے واپس لے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق مشترکہ بیان میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کی سمت میں اٹھایا جانے والا کوئی بھی قدم قانونی حیثیت نہیں رکھتا اور دو ریاستی حل کی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

کولمبیا نے بدھ کو باضابطہ طور پر یروشلم میں اپنا سفارتخانہ کھولا تھا۔ اس اقدام کے بعد وہ ان محدود ممالک میں شامل ہو گیا جنہوں نے اسرائیل میں اپنے سفارتی مشن کو یروشلم منتقل کیا ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک اپنے سفارتخانے تل ابیب میں رکھتے ہیں اور ان کا مؤقف ہے کہ یروشلم کی حتمی حیثیت اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان کسی جامع سیاسی تصفیے میں طے ہونی چاہیے۔

مشترکہ بیان میں شریک وزرائے خارجہ نے کولمبیا سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے فیصلے پر دوبارہ غور کرے، بین الاقوامی قانون کے تحت ذمہ داریوں کی پاسداری کرے اور ایسے اقدامات سے گریز کرے جو فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو متاثر کریں۔ بیان میں ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے حق اور مشرقی یروشلم کو اس کے دارالحکومت کے طور پر تسلیم کرنے کے مؤقف کو دہرایا گیا۔

یروشلم کی حیثیت اسرائیل-فلسطین تنازع کے سب سے حساس مسائل میں سے ایک ہے۔ اسرائیل پورے شہر کو اپنا دارالحکومت قرار دیتا ہے، جبکہ فلسطینی مشرقی یروشلم کو اپنی مستقبل کی ریاست کا دارالحکومت سمجھتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بیشتر عالمی سفارتی پالیسیوں میں شہر کی حتمی حیثیت کو مذاکرات سے جوڑا جاتا رہا ہے۔ اسی لیے سفارتخانوں کی منتقلی محض انتظامی نہیں بلکہ اہم سیاسی اور قانونی علامتی اقدام سمجھی جاتی ہے۔

امریکا نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ حکومت میں اپنا سفارتخانہ یروشلم منتقل کیا اور شہر کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیا تھا۔ اس کے بعد چند دیگر ممالک نے بھی اسی نوعیت کے فیصلے کیے۔ پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا اور فلسطینی ریاست کے قیام، بالخصوص مشرقی یروشلم کو اس کے دارالحکومت کے طور پر دیکھنے کی حمایت کرتا آیا ہے۔

تازہ مشترکہ بیان سفارتی اعتراض ہے؛ اس سے کولمبیا کے فیصلے کی خودکار منسوخی نہیں ہوتی۔ اب توجہ اس بات پر ہوگی کہ بوگوٹا اس بین الاقوامی مطالبے کا کیا جواب دیتا ہے اور آیا سفارتخانے کے مقام سے متعلق پالیسی میں کوئی تبدیلی کی جاتی ہے یا نہیں۔