اسلام آباد: پاکستان نے عالمی سرمایہ منڈیوں سے دو حصوں پر مشتمل یورو بانڈ کے ذریعے 3 ارب ڈالر حاصل کر لیے ہیں۔ وزارت خزانہ کے مطابق یہ ایک ہی لین دین میں پاکستان کا اب تک کا سب سے بڑا بین الاقوامی بانڈ اجرا ہے، جس کے لیے مختلف خطوں کے ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کی جانب سے تقریباً 6 ارب ڈالر کے آرڈرز موصول ہوئے، یعنی پیش کردہ رقم سے قریب دو گنا طلب سامنے آئی۔

تفصیلات کے مطابق حکومت نے ساڑھے پانچ سال کی مدت کے لیے 1 ارب 75 کروڑ ڈالر کا بانڈ جاری کیا، جس کی کوپن شرح 7.5 فیصد بتائی گئی۔ دوسرے حصے میں دس سال کی مدت کے لیے 1 ارب 25 کروڑ ڈالر حاصل کیے گئے اور اس کی کوپن شرح 7.9 فیصد رہی۔ وزارت خزانہ کے ایک اہلکار کے حوالے سے بتایا گیا کہ مارکیٹ قیمت کے لحاظ سے دونوں حصوں کی مؤثر شرح بالترتیب تقریباً 7.75 فیصد اور 8.25 فیصد بنتی ہے۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اس اجرا کو مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ بڑے پیمانے پر سرمایہ کاروں کی دلچسپی پاکستان کی معیشت اور پالیسی سمت پر اعتماد کی علامت ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدام کوئی الگ تھلگ قرض گیری نہیں بلکہ حکومت کی تین سالہ گلوبل میڈیم ٹرم نوٹ حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد قلیل مدتی مہنگے قرضوں کی جگہ نسبتاً طویل مدت کی فنانسنگ حاصل کرنا، ادائیگیوں کی مدت بڑھانا اور رول اوور کے خطرات کم کرنا ہے۔

وزارت خزانہ نے کہا کہ حاصل شدہ رقم حکومت کی مجموعی بیرونی فنانسنگ اور بجٹ ضروریات کے لیے استعمال ہوگی اور ضرورت کے مطابق قلیل مدتی قرض کی تبدیلی میں بھی لچک فراہم کر سکتی ہے۔ دی ایکسپریس ٹریبیون نے وزارت خزانہ کے ایک اہلکار کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ اجرا ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب سعودی عرب کو 3 ارب ڈالر کی واجب الادا رقم کی مدت اگلے ماہ ختم ہونی ہے۔ تاہم سرکاری اعلامیے میں آمدن کو کسی ایک مخصوص ادائیگی تک محدود نہیں کیا گیا۔

حکومت کے مطابق موجودہ شرحوں کا 2021 کے بانڈز سے موازنہ کرتے وقت عالمی شرح سود کے مختلف ماحول کو مدنظر رکھنا ضروری ہے، کیونکہ امریکی ٹریژری کی شرحیں اس وقت نمایاں طور پر زیادہ ہیں۔ لین دین کے مشترکہ بک رنرز میں سٹی، ڈوئچے بینک، ایمریٹس این بی ڈی، ایم یو ایف جی اور اسٹینڈرڈ چارٹرڈ شامل تھے۔ حکومت نے آئندہ سکوک، روپے میں مگر ڈالر میں تصفیہ ہونے والے بانڈز اور پانڈا بانڈ جیسے ذرائع سے فنانسنگ کو مزید متنوع بنانے کا عندیہ بھی دیا ہے۔