پاکستان میں گاڑیوں کی بقایا فنانسنگ جولائی 2026 کے اختتام پر 386 ارب 29 کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔ اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار پر مبنی رپورٹ کے مطابق جون میں یہ رقم 381 ارب 69 کروڑ روپے تھی، یوں ایک ماہ میں 1.2 فیصد اضافہ ہوا۔ جولائی 2025 کے 276 ارب 61 کروڑ روپے کے مقابلے میں سالانہ اضافہ 39.65 فیصد بنتا ہے۔

یہ اعداد نئے قرضوں کی صرف اسی مہینے میں تقسیم نہیں بلکہ مالیاتی اداروں کے پاس موجود بقایا فنانسنگ کی سطح ظاہر کرتے ہیں۔ اس لیے انہیں گاڑیوں کی فروخت یا نئی درخواستوں کی تعداد کے برابر سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ بقایا رقم پر نئی فنانسنگ، قسطوں کی ادائیگی، قرض ختم ہونے اور دیگر تبدیلیوں کا مشترکہ اثر پڑتا ہے۔

رہائشی تعمیر کے لیے صارف فنانسنگ جولائی کے اختتام پر 285 ارب 95 کروڑ روپے رہی۔ یہ رقم سالانہ بنیاد پر 38.12 فیصد زیادہ اور جون کے 267 ارب 9 کروڑ روپے سے 7.06 فیصد بلند بتائی گئی۔ ذاتی استعمال کے قرضے 298 ارب 19 کروڑ روپے رہے، جن میں سالانہ 13.51 فیصد اور ماہانہ 5.41 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا۔

تمام صارف مدوں کو ملا کر بقایا صارف فنانسنگ 1.19 کھرب روپے تک پہنچی، جو گزشتہ سال سے 30.46 فیصد زیادہ ہے۔ جون میں مجموعی صارف فنانسنگ 1.15 کھرب روپے تھی، اس لیے ماہانہ اضافہ 4.05 فیصد رہا۔ گاڑی، مکان اور ذاتی قرضوں کی الگ رفتار صارف قرض بازار کے مختلف حصوں کی تصویر دکھاتی ہے۔

نجی شعبے کے مجموعی قرضے جولائی میں 10.9 کھرب روپے رہے۔ یہ رقم سالانہ 12.68 فیصد زیادہ مگر جون کے 11.16 کھرب روپے سے 2.32 فیصد کم ہے۔ یعنی صارف فنانسنگ میں ماہانہ اضافہ ہوا جبکہ پورے نجی شعبے کے قرضوں کی بقایا سطح ماہانہ بنیاد پر گھٹی۔ دونوں اعداد کا دائرہ مختلف ہے اور انہیں ایک ہی رجحان نہیں سمجھنا چاہیے۔

مینوفیکچرنگ شعبے کے قرضے 5.79 کھرب روپے رہے، جو سالانہ 8.14 فیصد زیادہ مگر ماہانہ 3.67 فیصد کم ہیں۔ تعمیراتی شعبے کا قرض 222 ارب 22 کروڑ روپے رہا، جس میں سالانہ 5.64 فیصد اضافہ اور ماہانہ 5.9 فیصد کمی ہوئی۔ زراعت، جنگلات اور ماہی گیری کے قرضے 681 ارب 44 کروڑ روپے تک پہنچے، جو سالانہ 37.73 فیصد اور ماہانہ 1.54 فیصد زیادہ ہیں۔

قرضوں کی بلند بقایا سطح طلب، قیمتوں، شرح سود، بینک پالیسی اور ادائیگی کے دورانیے سمیت کئی عوامل سے متاثر ہوسکتی ہے۔ دستیاب رپورٹ اعداد فراہم کرتی ہے لیکن اضافے کی ایک حتمی وجہ متعین نہیں کرتی۔ آئندہ مہینوں میں شرح سود، نئی تقسیم، ادائیگیوں اور نادہندگی کے اعداد سے یہ واضح ہوگا کہ صارف فنانسنگ کا اضافہ کس حد تک پائیدار ہے۔