نیویارک: پاکستان نے اقوام متحدہ میں ہونے والی مختلف بحثوں کے دوران زیادہ نمائندہ، جمہوری، شفاف اور جوابدہ عالمی نظام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے سلامتی کونسل میں نئی مستقل نشستیں شامل کرنے کی مخالفت کی ہے۔ پاکستان کے قائم مقام مستقل مندوب سفیر عثمان جدون نے جنرل اسمبلی سے خطاب میں کہا کہ اصلاحات کا مقصد موجودہ عدم مساوات کو مزید مستقل بنانے کے بجائے کونسل میں وسیع تر نمائندگی پیدا کرنا ہونا چاہیے۔
پاکستانی موقف کے مطابق سلامتی کونسل کی منتخب اور غیر مستقل رکنیت میں توسیع، باقاعدہ انتخابات اور منصفانہ علاقائی گردش کے ذریعے زیادہ ممالک کو فیصلہ سازی میں حصہ ملنا چاہیے۔ اسلام آباد نے افریقہ اور دیگر کم نمائندگی رکھنے والے خطوں کے لیے مناسب نمائندگی کی بھی حمایت کی۔ یہ پاکستان کا سفارتی موقف ہے اور سلامتی کونسل کی ساخت میں کسی تبدیلی کے لیے رکن ممالک کے درمیان وسیع سیاسی اور قانونی اتفاق رائے درکار ہوگا۔
اقوام متحدہ میں فوجی مصنوعی ذہانت پر گفتگو کرتے ہوئے سفیر عثمان جدون نے جامع اور اقوام متحدہ کی قیادت میں عالمی نظم و نسق کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ فوجی فیصلوں میں مصنوعی ذہانت کے تیز استعمال سے غلط اندازوں اور کشیدگی بڑھنے کے خطرات پیدا ہو سکتے ہیں، خصوصاً ایسے حالات میں جہاں جوہری ہتھیار بھی موجود ہوں۔ پاکستان نے خودکار ہتھیاروں کے نظام پر بامعنی انسانی کنٹرول برقرار رکھنے کی حمایت کی۔
جنرل اسمبلی کی فرسٹ کمیٹی میں پاکستانی کونسلر سید عاطف رضا نے مصنوعی ذہانت، مصنوعی حیاتیات اور حیاتیاتی و کیمیائی علوم میں تیز پیش رفت سے پیدا ہونے والے نئے سکیورٹی خطرات کی نشاندہی کی۔ انہوں نے کہا کہ سائنسی ترقی کے ممکنہ غلط استعمال کے خلاف حفاظتی انتظامات ضروری ہیں، لیکن ایسے اقدامات ترقی پذیر ممالک کی پرامن سائنسی اور تکنیکی استعمال تک رسائی محدود نہ کریں۔
پاکستان نے حیاتیاتی اور کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق بین الاقوامی کنونشنز کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی بھی توثیق کی اور تصدیقی نظام اور بین الاقوامی تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔ رواں ہفتے پاکستانی مداخلتوں میں بین الاقوامی قانون کے یکساں اطلاق اور ترقی پذیر ممالک کے مفادات کو عالمی سلامتی کے نظام میں مناسب جگہ دینے کا مرکزی نکتہ نمایاں رہا۔

