اسلام آباد: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور چین کے وزیر خارجہ وانگ یی کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے جس میں پاکستان چین دوطرفہ تعلقات، اسٹریٹجک تعاون اور خطے کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے اعلیٰ سطح کے رابطوں کو جاری رکھنے اور باہمی تعاون کے مختلف شعبوں کو آگے بڑھانے پر زور دیا۔

پاکستان اور چین کے تعلقات میں چین پاکستان اقتصادی راہداری مرکزی معاشی منصوبوں میں شامل ہے، جس کے تحت توانائی، ٹرانسپورٹ، بندرگاہی ڈھانچے اور صنعتی تعاون کے متعدد منصوبے شروع کیے گئے ہیں۔ دونوں حکومتیں حالیہ عرصے میں سی پیک کے اگلے مرحلے میں صنعت، زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور کاروباری شراکت داری بڑھانے کی بات کرتی رہی ہیں۔ تازہ رابطے میں بھی دوطرفہ تعاون کے تسلسل پر گفتگو کی گئی۔

علاقائی صورتحال دونوں ممالک کے سفارتی رابطوں کا اہم حصہ ہے۔ پاکستان کو افغانستان سے منسلک سکیورٹی خدشات اور سرحدی کشیدگی کا سامنا رہا ہے، جبکہ چین خطے میں استحکام کو اپنے اقتصادی اور سلامتی مفادات کے لیے اہم سمجھتا ہے۔ ایسے معاملات میں اسلام آباد اور بیجنگ باقاعدہ سفارتی مشاورت کرتے ہیں، تاہم ہر رابطے کا نتیجہ کسی فوری نئی پالیسی یا معاہدے کی صورت میں سامنے آنا ضروری نہیں ہوتا۔

وزرائے خارجہ کے درمیان گفتگو میں باہمی اعتماد اور اسٹریٹجک شراکت داری کو برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ پاکستان کی حکومت چین کو اہم اقتصادی اور سفارتی شراکت دار قرار دیتی ہے، جبکہ چینی قیادت بھی پاکستان کے ساتھ تعلقات کو اپنی علاقائی خارجہ پالیسی میں نمایاں مقام دیتی رہی ہے۔ دونوں ملک اقوام متحدہ اور دیگر کثیرالجہتی فورمز پر بھی متعدد معاملات میں رابطہ رکھتے ہیں۔

سی پیک منصوبوں کے ساتھ پاکستان میں چینی شہریوں اور منصوبوں کی سکیورٹی بھی دوطرفہ تعلقات میں ایک اہم موضوع ہے۔ پاکستان نے متعدد مواقع پر چینی شہریوں اور اداروں کے تحفظ کے لیے اقدامات بڑھانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ کسی بھی نئے سکیورٹی انتظام یا مخصوص معاہدے کی تفصیل اس ٹیلی فونک رابطے کے اعلان میں سامنے نہیں آئی۔

تازہ رابطہ بنیادی طور پر اعلیٰ سطح کی سفارتی مشاورت کا تسلسل ہے۔ اس میں دوطرفہ تعلقات اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال ہوا، لیکن دستیاب معلومات کے مطابق کسی نئے معاہدے، مالی پیکج یا مخصوص منصوبے کی حتمی منظوری کا اعلان نہیں کیا گیا۔ اس لیے اسے پاکستان اور چین کے درمیان جاری اسٹریٹجک رابطے کے ایک مرحلے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔