اسلام آباد: عالمی بینک نے 2026-27 کے فصل سیزن میں پاکستان کی کپاس پیداوار میں چھ فیصد کمی کا تخمینہ ظاہر کیا ہے۔ اکتوبر 2026 کے کموڈیٹی مارکیٹس آؤٹ لک میں امریکی محکمہ زراعت کے تخمینوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ عالمی کپاس پیداوار بھی تقریباً تین فیصد کم ہوسکتی ہے، جبکہ پاکستان اور چین میں پیداوار چھ چھ فیصد گھٹنے کی توقع ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکا میں کپاس کی پیداوار تقریباً تین فیصد کم ہونے کا امکان ہے، جبکہ برازیل اور بھارت میں تقریباً ایک ایک فیصد اضافے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ عالمی بینک نے بڑے پیداواری علاقوں میں خراب موسمی حالات اور پیداوار کے دباؤ کو رسد کے لیے اہم خطرات قرار دیا۔ ایل نینو کی شدت بڑھنے سے بھی فصلوں کی پیداوار کے بارے میں غیر یقینی میں اضافہ ہوسکتا ہے، خصوصاً بارانی علاقوں میں موسم معمول سے زیادہ خشک رہنے کی صورت میں۔
بین الاقوامی کپاس قیمتیں 2026 کی تیسری سہ ماہی میں گزشتہ سہ ماہی کے مقابلے میں چھ فیصد بڑھی تھیں اور اکتوبر کے پہلے نصف میں تقریباً مستحکم رہنے کے باوجود ایک سال پہلے کے مقابلے میں لگ بھگ 20 فیصد زیادہ تھیں۔ عالمی بینک کا اندازہ ہے کہ 2026 میں کپاس کی اوسط عالمی قیمت 14 فیصد اضافے کے ساتھ 1.95 ڈالر فی کلوگرام رہ سکتی ہے، جو 2025 میں 1.71 ڈالر تھی۔ 2027 میں قیمت دو ڈالر اور 2028 میں 2.02 ڈالر فی کلوگرام تک جانے کا تخمینہ ہے۔
دوسری جانب 2026-27 میں عالمی کپاس کھپت دو فیصد بڑھنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ پیداوار میں کمی اور کھپت میں اضافے کے امتزاج سے عالمی ذخائر اور استعمال کا تناسب 0.63 سے گھٹ کر 0.57 ہونے کی توقع ہے، جس سے مارکیٹ مزید موسمی یا پیداواری جھٹکوں کے لیے حساس ہوسکتی ہے۔ پاکستان کے لیے کپاس کی پیداوار کا یہ تخمینہ ٹیکسٹائل صنعت، درآمدی ضرورت اور مقامی قیمتوں کے حوالے سے اہم ہے، تاہم یہ ایک پیش گوئی ہے اور حقیقی فصل موسم، زیر کاشت رقبے، پانی، کیڑوں اور زرعی پالیسی سمیت متعدد عوامل سے متاثر ہوسکتی ہے۔

