اسلام آباد: وفاقی حکومت نے شہریوں کو سائبر جرائم، ڈیجیٹل فراڈ، غلط معلومات اور سوشل میڈیا سے وابستہ ابھرتے خطرات سے تحفظ دینے کے لیے ’سائبر سکیورٹی اینڈ سوشل میڈیا اویئرنیس کونسل‘ قائم کرنے کی منصوبہ بندی کی ہے۔ مجوزہ کونسل کا مقصد مختلف سرکاری اداروں اور متعلقہ شراکت داروں کی کوششوں کو ایک پلیٹ فارم پر مربوط کرنا اور عوامی آگاہی کو منظم انداز میں بڑھانا بتایا گیا ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے سائبر سکیورٹی آگاہی ہفتہ 2026 کی تقریب سے خطاب میں کہا کہ تیزی سے بدلتی ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا نئے چیلنج پیدا کر رہے ہیں اور پالیسی و ضابطہ کاری کو تکنیکی تبدیلیوں کے ساتھ ہم آہنگ رکھنے کی ضرورت ہے۔ تقریب پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے تعاون سے منعقد کی تھی۔

وزیر اطلاعات نے ذمہ دارانہ سوشل میڈیا استعمال اور جعلی خبروں کے خطرات سے متعلق عوامی آگاہی بڑھانے پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسکولوں، کالجوں اور جامعات میں ڈیجیٹل تعلیم متعارف کرانے اور نصاب کو نئی تکنیکی حقیقتوں کے مطابق اپ ڈیٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے نوجوان نسل، خصوصاً جنریشن زی، کو سائبر تحفظ کی کوششوں میں شامل کرنے اور بچوں کو آن لائن خطرات سے بچاؤ کی تربیت دینے کی بھی حمایت کی۔

وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ خواجہ نے تقریب میں کہا کہ پاکستان میں ڈیجیٹلائزیشن بڑھنے کے ساتھ محفوظ اور مضبوط ڈیجیٹل ماحول کی ضرورت بھی بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت سے وابستہ نئے سائبر خطرات، فون ہیکنگ اور بچوں کی آن لائن سرگرمیوں کے حوالے سے والدین کی آگاہی پر زور دیا۔ ان کے مطابق بچوں کو سائبر بُلنگ سے بچانے کے لیے احتیاط کے ساتھ واقعات رپورٹ کرنے کے نظام کو بھی بہتر بنانا ضروری ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سوشل میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی قائم کرنے کا منصوبہ زیر غور ہے۔

یو این ڈی پی پاکستان کے نمائندے نے سائبر سکیورٹی میں صرف ٹیکنالوجی نہیں بلکہ باخبر اور بااختیار صارفین کو بھی بنیادی عنصر قرار دیا۔ پی ٹی اے کے چیئرمین نے سائبر خطرات، ڈیجیٹل فراڈ اور غلط معلومات سے نمٹنے کے لیے ریگولیٹری اقدامات، عوامی آگاہی اور ادارہ جاتی تعاون کا حوالہ دیا۔

مجوزہ کونسل کے قانونی ڈھانچے، رکنیت، اختیارات اور قیام کی حتمی تاریخ کی مکمل تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئی ہیں۔ اس لیے اسے فی الحال حکومتی منصوبہ سمجھا جانا چاہیے، قائم شدہ ادارہ نہیں۔ اس کی مؤثریت کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ مختلف اداروں کی ذمہ داریاں کتنی واضح کی جاتی ہیں، شہریوں کیلئے شکایت اور واقعہ رپورٹنگ کتنی آسان بنتی ہے اور آگاہی مہمات کو قابل پیمائش نتائج سے کس طرح جوڑا جاتا ہے۔