نیویارک: پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مصنوعی ذہانت اور دیگر ابھرتی ٹیکنالوجیز کے ذمہ دارانہ، منصفانہ اور امن کے تقاضوں سے ہم آہنگ استعمال پر زور دیا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب ڈیجیٹل نظام بحری تجارت، بندرگاہوں، جہاز رانی اور سمندری نگرانی میں بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہے ہیں۔
ریڈیو پاکستان کے مطابق اقوام متحدہ میں پاکستان کے قائم مقام مستقل نمائندے عثمان جدون نے سلامتی کونسل کے اعلیٰ سطحی کھلے مباحثے سے خطاب کیا جس کا موضوع ’ابھرتی ٹیکنالوجیز اور بحری سلامتی: امن و سلامتی پر اثرات‘ تھا۔ انہوں نے کہا کہ نئی ٹیکنالوجیز کو بحری سلامتی مضبوط بنانے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے، مگر ساتھ ہی ان کے غلط استعمال کو روکنا اور بین الاقوامی امن و سلامتی کا تحفظ بھی ضروری ہے۔
پاکستانی نمائندے نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جدید ٹیکنالوجی تک رسائی صرف سکیورٹی مقاصد تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ انسانی امداد میں بھی اسے مؤثر انداز سے بروئے کار لایا جائے۔ انہوں نے بالخصوص ایسے ملاحوں کی مدد کا حوالہ دیا جنہیں سمندر میں قزاقی کے خطرات کا سامنا ہو۔ اس مؤقف میں ٹیکنالوجی کے دوہرے استعمال کے پہلو کو نمایاں کیا گیا: ایک طرف یہ نگرانی، خطرے کی شناخت اور ردعمل بہتر بنا سکتی ہے، جبکہ دوسری طرف غلط ہاتھوں میں جانے یا غیر ذمہ دارانہ استعمال سے نئے خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔
عالمی سمندری راستے بین الاقوامی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں، اس لیے مصنوعی ذہانت، خودکار نظام، سیٹلائٹ ڈیٹا اور دیگر ڈیجیٹل صلاحیتوں کا بحری شعبے میں استعمال سلامتی کونسل کی توجہ کا موضوع بن رہا ہے۔ پاکستان نے اس بحث میں مساوی رسائی کو بھی اہم اصول کے طور پر پیش کیا، تاکہ ترقی پذیر ممالک جدید صلاحیتوں سے محروم نہ رہیں۔
پاکستانی بیان میں کسی مخصوص نئے بین الاقوامی ضابطے یا پابندی کے نفاذ کا اعلان نہیں کیا گیا۔ یہ سلامتی کونسل کے مباحثے میں پیش کیا گیا پالیسی مؤقف تھا جس میں ذمہ دارانہ استعمال، غلط استعمال کی روک تھام اور انسانی ضروریات کے لیے ٹیکنالوجی کی دستیابی کو ایک ساتھ آگے بڑھانے کی ضرورت بیان کی گئی۔
پاکستان کی جانب سے بحری سلامتی پر یہ مؤقف ملک کے جغرافیائی محل وقوع اور بحیرہ عرب سے منسلک تجارتی مفادات کے تناظر میں بھی اہم ہے۔ بندرگاہوں، سمندری تجارتی راستوں اور ملاحوں کی حفاظت میں نئی ٹیکنالوجیز کا کردار بڑھنے کے ساتھ بین الاقوامی سطح پر شفاف اصول، انسانی نگرانی اور ریاستوں کے درمیان تعاون اس بحث کے مرکزی عناصر رہیں گے۔
