اسلام آباد: وفاقی فنانس ڈویژن نے ڈیبٹ مینجمنٹ آفس میں ڈائریکٹر جنرل (ڈیبٹ) کی سینئر آسامی مشتہر کر دی ہے، جسے حکومت کے قرض انتظام، قرض لینے کی حکمت عملی اور مالی خطرات کی نگرانی کے لیے مرکزی قیادت کا کردار دیا جائے گا۔ دستیاب تفصیلات کے مطابق یہ عہدہ ایس پی پی ایس-1 گریڈ میں رکھا گیا ہے اور درخواستیں 18 اکتوبر 2026 تک نیشنل جاب پورٹل کے ذریعے جمع کرائی جا سکتی ہیں۔

اس عہدے پر تعینات افسر کو وفاقی حکومت کے ملکی اور غیر ملکی قرض سے متعلق حکمت عملی کی نگرانی کرنا ہوگی۔ ذمہ داریوں میں قرض کی پائیداری کا جائزہ، قرض لینے کے پروگراموں کی منصوبہ بندی، شرح سود اور ری فنانسنگ جیسے خطرات کی نگرانی اور حکومت کو قرض سے متعلق پالیسی معاملات پر مشورہ دینا شامل ہے۔ ڈیبٹ مینجمنٹ آفس وزارت خزانہ کے اندر وہ یونٹ ہے جو سرکاری قرض کے ڈھانچے، مدت، کرنسی اور لاگت سے وابستہ خطرات کو منظم کرنے میں کردار ادا کرتا ہے۔

مشتہر کردہ ذمہ داریوں کے مطابق ڈائریکٹر جنرل کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اور دیگر بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ اعلیٰ سطحی رابطوں میں بھی حصہ لینا ہوگا۔ اس کے علاوہ سرمایہ کاروں، کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں اور مالیاتی منڈی کے دوسرے اہم فریقوں سے رابطہ بھی اس کردار کا حصہ ہوگا۔ اس نوعیت کی رابطہ کاری حکومت کے قرض لینے کی لاگت، مارکیٹ تک رسائی اور قرض کے بارے میں سرمایہ کاروں کے اعتماد کے لیے اہم سمجھی جاتی ہے۔

اہلیت کے لیے کم از کم 16 سالہ تعلیم یا فنانس، اکنامکس یا متعلقہ شعبے میں ماسٹرز ڈگری، یا متعلقہ پیشہ ورانہ قابلیت درکار بتائی گئی ہے۔ امیدوار کے پاس کم از کم 17 سال کا پیشہ ورانہ تجربہ ہونا چاہیے، جس میں پانچ سال ایسی قیادتی ذمہ داری شامل ہو جو بی ایس-20 کے مساوی سطح کی ہو۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت اس عہدے کے لیے پبلک ڈیٹ، ٹریژری، مالیاتی منڈیوں یا متعلقہ شعبوں میں طویل تجربہ رکھنے والے امیدوار کی تلاش میں ہے۔

ڈیلی ٹائمز نے اس تقرری کے عمل کو پاکستان کے جاری آئی ایم ایف پروگرام کے تحت قرض انتظام اور ادارہ جاتی صلاحیت بہتر بنانے کی کوششوں سے جوڑا ہے۔ تاہم بھرتی کا بنیادی اور قابلِ تصدیق اقدام خود فنانس ڈویژن کی جانب سے سینئر عہدہ مشتہر کرنا ہے؛ کسی مخصوص امیدوار کی تقرری ابھی نہیں ہوئی۔

پاکستان کے سرکاری قرض کا حجم اور اس کی سروسنگ لاگت مالی پالیسی کے بڑے چیلنجز میں شامل ہیں، اس لیے ڈیبٹ مینجمنٹ آفس کی قیادت قرض کی مدت بڑھانے، مقررہ شرح والے آلات کا تناسب بہتر کرنے، مختلف ذرائع سے فنانسنگ حاصل کرنے اور مالی خطرات محدود رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ نئی بھرتی کے نتائج درخواستوں کی جانچ اور سرکاری انتخابی عمل مکمل ہونے کے بعد سامنے آئیں گے۔