کراچی: پاکستان میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے استعمال میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور مالی سال 2025-26 کے دوران رسمی بینکاری چینلز کے ذریعے ہونے والی ریٹیل ٹرانزیکشنز میں ڈیجیٹل ذرائع کا حصہ 92 فیصد تک پہنچ گیا۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی سالانہ رپورٹ برائے ادائیگی نظام کے حوالے سے ڈان نے بتایا کہ ایک سال قبل یہ تناسب 88 فیصد تھا۔
رپورٹ کے مطابق مالی سال کے دوران رسمی بینکاری چینلز سے مجموعی طور پر 14.3 ارب ریٹیل ٹرانزیکشنز ہوئیں جن کی مالیت 673 ٹریلین روپے تھی۔ ان میں 13.2 ارب ٹرانزیکشنز ڈیجیٹل چینلز سے انجام پائیں۔ مجموعی ٹرانزیکشنز کے حجم میں سالانہ بنیاد پر 58 فیصد اور مالیت میں 10 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ ڈیجیٹل ٹرانزیکشنز کی تعداد میں 65 فیصد اضافہ بتایا گیا ہے۔
موبائل فون پر مبنی بینکاری اور ادائیگی خدمات اس تبدیلی کا بڑا ذریعہ رہیں۔ رپورٹ کے مطابق موبائل پر 11.1 ارب سے زیادہ ٹرانزیکشنز ہوئیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 79 فیصد زیادہ ہیں۔ انٹرنیٹ بینکاری پورٹلز نے 300 ملین ٹرانزیکشنز پراسیس کیں اور اس شعبے میں 15 فیصد اضافہ ہوا۔ برانچ لیس بینکاری موبائل ایپ صارفین کی تعداد 99.1 ملین جبکہ بینکوں کی موبائل ایپس استعمال کرنے والوں کی تعداد 30.4 ملین تک پہنچ گئی۔
کارڈ ادائیگیوں کے لیے پوائنٹ آف سیل نیٹ ورک بھی پھیلا اور 295,367 کاروباری مقامات پر 337,791 ٹرمینلز دستیاب ہوئے۔ ان کے ذریعے یومیہ تقریباً 15 لاکھ کارڈ ادائیگیاں ہونے لگیں، جو گزشتہ مالی سال میں تقریباً دس لاکھ روزانہ تھیں۔ اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق ای کامرس میں بینکاری چینلز کے ذریعے ہونے والی ادائیگیوں میں اکاؤنٹ پر مبنی آن لائن ادائیگیوں کا حصہ 96 فیصد رہا۔
ادائیگی کے بنیادی ڈھانچے میں PRISM+ کا آغاز بھی اہم پیش رفت قرار دیا گیا، جس سے ریئل ٹائم گراس سیٹلمنٹ نظام کو ISO-20022 معیار پر منتقل کیا گیا۔ یہ اعداد ملک میں روزمرہ مالی سرگرمی کے تیزی سے ڈیجیٹل ہونے کی نشاندہی کرتے ہیں، تاہم رپورٹ میں درج اعداد رسمی بینکاری اور متعلقہ ادائیگی چینلز کی سرگرمی کی پیمائش کرتے ہیں۔

