تہران: ایران میں پاکستان کے سفارتخانے نے پاکستانی سفیر عمران احمد صدیقی پر مبینہ حملے سے متعلق سوشل میڈیا اور دیگر فورمز پر گردش کرنے والی خبروں کی واضح تردید کر دی ہے۔ سفارتخانے نے کہا کہ اس نوعیت کی رپورٹس بے بنیاد اور حقائق کے منافی ہیں۔ یہ وضاحت ایک ایسی ویڈیو اور اس کے ساتھ کیے گئے دعوؤں کے بعد سامنے آئی جن میں ایک نامعلوم عمارت میں لوگوں کے ہجوم اور دھکم پیل کے مناظر دکھائے گئے تھے اور اسے پاکستانی سفیر سے جوڑنے کی کوشش کی گئی تھی۔

سوشل میڈیا پر پھیلنے والے دعوے میں کہا گیا تھا کہ سفیر عمران احمد صدیقی کو تہران میں کسی تقریب کے دوران نشانہ بنایا گیا اور بعد ازاں طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔ دستیاب رپورٹ کے مطابق دعویٰ کرنے والے اکاؤنٹ نے مبینہ واقعے کی جگہ، نوعیت یا اپنے ذرائع کی واضح تفصیل فراہم نہیں کی۔ پاکستانی سفارتخانے نے ان دعوؤں کا نوٹس لیتے ہوئے انہیں قطعی طور پر مسترد کیا اور کہا کہ سفیر سے متعلق گردش کرنے والی معلومات درست نہیں ہیں۔

اس معاملے میں سفارتخانے کی تردید سرکاری مؤقف کی حیثیت رکھتی ہے اور فی الحال کسی قابل اعتماد ذریعے سے سفیر پر حملے یا انہیں اسپتال منتقل کیے جانے کی تصدیق سامنے نہیں آئی۔ سفیر عمران احمد صدیقی کی جانب سے بھی مذکورہ افواہوں کے بارے میں ذاتی سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر کوئی الگ بیان رپورٹ نہیں ہوا۔ اس لیے غیر مصدقہ ویڈیو یا نامعلوم ذرائع سے منسوب دعوؤں کو تصدیق شدہ واقعہ قرار دینا درست نہیں ہوگا۔

پاکستان نے عمران احمد صدیقی کو فروری 2026 میں ایران میں اپنا سفیر مقرر کیا تھا۔ اس سے قبل وہ بنگلہ دیش میں پاکستان کے سفیر کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں۔ ایران میں ان کی تعیناتی ایسے وقت ہوئی جب خطے میں سکیورٹی اور سفارتی صورت حال مسلسل حساس رہی ہے، جس کے باعث پاکستانی سفارتی نمائندوں سے متعلق کسی بھی غیر مصدقہ اطلاع کی فوری تصدیق خاص اہمیت رکھتی ہے۔

حالیہ عرصے میں پاکستانی سفارتکاروں سے متعلق گمراہ کن ویڈیوز اور دعوؤں کی مثالیں بھی سامنے آئی ہیں۔ گزشتہ ماہ وزارت اطلاعات نے لندن میں پاکستانی سفیر کے بارے میں گردش کرنے والی ایک ویڈیو اور حملے کے دعوے کو بھی غلط قرار دیا تھا۔ تہران کے تازہ معاملے میں بھی بنیادی تصدیق پاکستانی سفارتخانے کی جانب سے سامنے آئی ہے، جس نے عوامی سطح پر پھیلائی جانے والی حملے کی خبر کو مسترد کر دیا ہے۔