ہنگری کے دارالحکومت بڈاپسٹ میں پاکستانی سفارتخانے نے ملک کے باسمتی چاول کے لیے نئی یورپی منڈیوں تک رسائی بڑھانے کی کوشش کے طور پر پہلا پاکستان رائس فیسٹیول منعقد کیا۔ سفارتخانے کے بیان کے مطابق تقریب وزارت تجارت اور ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کے تعاون سے منعقد ہوئی اور اس میں ہنگری کے درآمد کنندگان، فوڈ اور زرعی شعبے کے کاروباری نمائندوں، معروف شیفس، سرکاری اداروں اور سفارتی برادری کے ارکان نے شرکت کی۔
وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے تقریب کے انعقاد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی زرعی مصنوعات کو یورپی دارالحکومتوں میں براہ راست خریداروں کے سامنے پیش کرنا نئے گاہک حاصل کرنے اور برآمدی مصنوعات کی شناخت مضبوط بنانے کا مؤثر ذریعہ ہے۔ انہوں نے ہنگری میں پاکستان کے سفیر آصف حسین میمن، ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ اتاشی شہریار امجد قیصرانی اور ٹی ڈی اے پی کی کاوشوں کو سراہا۔
پاکستانی سفیر نے شرکا کو باسمتی چاول کی تاریخی اور تجارتی اہمیت سے آگاہ کیا اور اس کی برآمدی صلاحیت پر روشنی ڈالی۔ تقریب میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ باسمتی صرف زرعی پیداوار نہیں بلکہ جغرافیائی شناخت، یعنی جی آئی، سے منسلک ایک معروف برانڈ ہے۔ اس پہلو کو یورپی منڈی میں معیار، اصل اور برانڈ ویلیو کے تناظر میں پیش کیا گیا۔
فیسٹیول میں 'دی آرٹ آف بریانی' کے عنوان سے لائیو کوکنگ ڈیمونسٹریشن بھی کی گئی، جس کے ذریعے شرکا کو پاکستانی چاول اور اس سے تیار ہونے والے پکوانوں سے متعارف کرایا گیا۔ ہمالیائی پنک سالٹ سمیت دیگر پاکستانی مصنوعات بھی نمائش کے لیے رکھی گئیں۔ سفارتخانے نے ہنگری زبان میں چاول کے پکوانوں پر مختصر ریسیپی بک تیار کی اور شرکا میں پاکستانی چاول کے نمونے تقسیم کیے۔
تقریب میں شرکا کو کراچی ایکسپو سینٹر میں 23 سے 26 نومبر 2026 تک ہونے والی FoodAg نمائش میں شرکت کی دعوت بھی دی گئی۔ یہ سرگرمی غیر روایتی برآمدی منڈیوں میں پاکستان کی تجارتی موجودگی بڑھانے کی پالیسی کا حصہ ہے۔ اصل تجارتی اثر کا اندازہ مستقبل کے درآمدی آرڈرز اور کاروباری معاہدوں سے ہوگا، تاہم موجودہ تقریب نے پاکستانی باسمتی کو ہنگری کے ممکنہ خریداروں اور فوڈ انڈسٹری کے سامنے براہ راست پیش کرنے کا پلیٹ فارم فراہم کیا ہے۔

