پاکستان کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر 21 ارب ڈالر کی سطح سے تجاوز کر گئے ہیں، جو تقریباً دو سال کی بلند ترین سطح بتائی گئی ہے۔ اسٹیٹ بینک کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق مرکزی بینک اور کمرشل بینکوں کے پاس موجود غیر ملکی کرنسی ذخائر میں بہتری آئی ہے، جس سے بیرونی ادائیگیوں کے لیے دستیاب مالی بفر مضبوط ہوا ہے۔
زرمبادلہ ذخائر کسی ملک کی درآمدات، بیرونی قرض کی ادائیگی اور کرنسی مارکیٹ میں اعتماد کے لیے اہم ہوتے ہیں۔ پاکستان کو گزشتہ برسوں میں کم ذخائر اور بڑی بیرونی ادائیگیوں کے باعث شدید دباؤ کا سامنا رہا، اس لیے موجودہ اضافہ معاشی استحکام کے تناظر میں اہم ہے۔
ذخائر میں بہتری کے پیچھے ترسیلات زر، برآمدی آمدن، کثیرالجہتی اور دوطرفہ فنانسنگ، قرض کے رول اوور اور مالیاتی منڈی سے حاصل ہونے والے وسائل سمیت مختلف عوامل ہو سکتے ہیں۔ پاکستان نے حال ہی میں بین الاقوامی یورو بانڈ مارکیٹ سے بھی 3 ارب ڈالر جمع کیے ہیں، تاہم ہفتہ وار ذخائر کے اعداد میں ہر مالی بہاؤ کی بکنگ کا وقت الگ ہو سکتا ہے۔
زیادہ ذخائر روپے پر اچانک دباؤ اور بیرونی ادائیگی کے خطرات کم کرنے میں مدد دیتے ہیں، مگر قرض سے حاصل ہونے والی رقوم مستقبل میں واپسی کی ذمہ داری بھی پیدا کرتی ہیں۔ اس لیے پائیدار بہتری کے لیے برآمدات، ترسیلات زر اور براہ راست سرمایہ کاری جیسے غیر قرضی ذرائع کا بڑھنا ضروری ہے۔
21 ارب ڈالر کی مجموعی سطح کو مکمل طور پر اسٹیٹ بینک کے قابل استعمال ذخائر نہیں سمجھنا چاہیے کیونکہ اس میں کمرشل بینکوں کے ذخائر بھی شامل ہوتے ہیں۔ بیرونی استحکام کا زیادہ جامع جائزہ مرکزی بینک کے خالص ذخائر، درآمدی کوریج، بیرونی قرض کی میچورٹی اور کرنٹ اکاؤنٹ کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ تازہ اعداد بہرحال پاکستان کے بیرونی مالی بفر میں قابل ذکر بحالی کی نشاندہی کرتے ہیں۔




