اسلام آباد: قومی ایمرجنسی آپریشن سینٹر برائے انسداد پولیو نے خیبر پختونخوا کے ضلع بنو سے 2026 کے دوران پاکستان میں پولیو کا چوتھا کیس رپورٹ ہونے کی تصدیق کی ہے۔ تازہ کیس جنوبی خیبر پختونخوا کے اسی خطے سے سامنے آیا ہے جہاں رسائی اور سکیورٹی کے مسائل کے باعث بعض بچوں تک ویکسین ٹیموں کی مسلسل رسائی متاثر رہی ہے۔ سرکاری پولیو پروگرام نے والدین اور نگہداشت کرنے والوں سے اپیل کی ہے کہ بچوں کو ہر انسداد پولیو مہم میں ویکسین ضرور دلوائی جائے۔
پولیو پروگرام کے مطابق متاثرہ بچہ بنو کی تحصیل میریان کی نورڑ یونین کونسل سے تعلق رکھتا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ اس علاقے میں 2025 سے سکیورٹی سے متعلق رکاوٹوں کے باعث ویکسینیشن ٹیمیں تمام بچوں تک باقاعدگی سے نہیں پہنچ سکیں، جس سے جنگلی پولیو وائرس کی گردش جاری رہنے کا خطرہ بڑھا۔ رواں سال سامنے آنے والے چار کیسز میں سے تین جنوبی خیبر پختونخوا میں رپورٹ ہوئے ہیں۔
سرکاری اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں پولیو کیسز کی تعداد 1990 کی دہائی کے اوائل میں اندازاً 20 ہزار سالانہ سے کم ہو کر 2025 میں 31 رہ گئی تھی۔ پولیو پروگرام کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر وائرس کی منتقلی میں گزشتہ سال کے مقابلے میں کمی ہوئی ہے، لیکن جنوبی خیبر پختونخوا میں اس کی موجودگی بدستور ایک اہم چیلنج ہے۔ رواں سال کا پہلا کیس سندھ کے ضلع سجاول کی بیلو یونین کونسل میں ایک چار سالہ بچے میں رپورٹ ہوا تھا، جبکہ دیگر کیسز بنو اور شمالی وزیرستان سے سامنے آئے۔
پاکستان 2026 میں اب تک تین بڑے پیمانے کی انسداد پولیو مہمات کر چکا ہے۔ اگلی قومی گھر گھر مہم 21 سے 27 ستمبر تک شیڈول ہے، جس میں جنوبی خیبر پختونخوا سمیت ملک بھر کے تقریباً 3 کروڑ 10 لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ پروگرام نے زور دیا ہے کہ وائرس کے خاتمے کے لیے نہ صرف بڑے پیمانے کی مہم بلکہ ہر بچے تک بار بار رسائی اور مؤثر نگرانی ضروری ہے۔
پولیو ایک انتہائی متعدی وائرل بیماری ہے جو بعض متاثرہ بچوں میں مستقل فالج اور شدید صورتوں میں موت کا سبب بن سکتی ہے۔ اس کا کوئی علاج نہیں، تاہم ویکسین کے ذریعے اس سے بچاؤ ممکن ہے۔ حکام کے مطابق ویکسین محفوظ ہے اور دنیا کے متعدد ممالک میں طویل عرصے سے استعمال ہو رہی ہے۔
تازہ کیس اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ قومی سطح پر مجموعی کیسز کم ہونے کے باوجود مخصوص علاقوں میں رسائی کا خلا وائرس کو برقرار رکھ سکتا ہے۔ حکام کے لیے اگلی مہم میں سکیورٹی، مقامی رسائی اور پہلے رہ جانے والے بچوں کی نشاندہی اہم ہوگی تاکہ وائرس کی زنجیر کو توڑنے کی کوشش مؤثر بنائی جا سکے۔




