اسلام آباد: پاکستان میں 90 لاکھ سے زائد کم آمدنی والے افراد حکومت کی ہدفی فیول سبسڈی اسکیم سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، جسے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کے بعد روزمرہ سفر اور روزگار کے لیے گاڑی استعمال کرنے والے شہریوں پر مالی دباؤ کم کرنے کے لیے متعارف کرایا گیا تھا۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق وفاقی وزرا نے بتایا کہ اسکیم میں اہل شہریوں کو موبائل فون پر ڈیجیٹل ٹوکن بھیجا جاتا ہے جسے شریک پٹرول پمپ پر تصدیق کے بعد رعایت حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کے مطابق 90 لاکھ سے زیادہ افراد پروگرام سے مستفید ہو رہے ہیں۔ موٹر سائیکل اور تین پہیوں والی گاڑی استعمال کرنے والے اہل افراد کو ہفتہ وار 500 روپے کی رعایت ملتی ہے اور ایک ماہ میں زیادہ سے زیادہ چار ٹوکن استعمال کیے جا سکتے ہیں، یوں ماہانہ امداد کی حد 2,000 روپے بنتی ہے۔ 800 سی سی تک کی چھوٹی گاڑیوں کے اہل مالکان کو ہر دس دن بعد زیادہ سے زیادہ 10 لیٹر پٹرول پر 100 روپے فی لیٹر رعایت دی جاتی ہے اور ماہانہ تین ٹوکن کی حد کے باعث زیادہ سے زیادہ بچت 3,000 روپے ہو سکتی ہے۔

وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ خواجہ نے اسکیم کو ملک میں ٹیکنالوجی کے ذریعے ہدفی فیول سبسڈی کی قومی سطح پر پہلی بڑی کوشش قرار دیا۔ سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی نے یکم اکتوبر کو وزیراعظم کی جائزہ میٹنگ کے حوالے سے بتایا تھا کہ اسکیم 15 ستمبر سے جاری ہے، 129 اضلاع میں عمل درآمد ہو رہا ہے اور اس وقت تک 84 لاکھ سے زیادہ افراد رجسٹر ہو چکے تھے جبکہ 75 لاکھ سے زائد شہری فائدہ اٹھا چکے تھے۔ نئی تعداد اس کے بعد مستفید افراد میں مزید اضافے کی نشاندہی کرتی ہے۔

یہ پروگرام ایسے وقت چل رہا ہے جب علاقائی جنگ اور عالمی توانائی منڈی کی بے یقینی کے باعث پاکستان میں ایندھن کی قیمتوں نے گھرانوں اور ٹرانسپورٹ اخراجات پر دباؤ بڑھایا ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ عمومی سبسڈی کے بجائے محدود اور شناخت شدہ صارفین کو ریلیف دے کر کم آمدنی اور متوسط طبقے کے متاثرہ حصوں تک مدد پہنچائی جا رہی ہے۔

اسکیم کی رعایت مقررہ مقدار اور مدت تک محدود ہے، اس لیے اضافی سفر یا مقررہ حد سے زیادہ ایندھن خریدنے پر صارف کو مارکیٹ کی موجودہ قیمت ادا کرنا ہوگی۔ پروگرام کی افادیت کا حتمی جائزہ مستفید افراد کی تعداد کے ساتھ اس بات سے بھی ہوگا کہ ڈیجیٹل تصدیق، پٹرول پمپ پر عمل درآمد اور اہل شہریوں کی رسائی کس حد تک مسلسل اور شفاف رہتی ہے۔