حکومت نے پاکستان کی زرعی معیشت کو خام اجناس کی برآمد سے نکال کر پراسیس شدہ، تصدیق شدہ اور برانڈڈ مصنوعات کی طرف منتقل کرنے کے لیے قومی روڈ میپ پر مشاورت شروع کردی ہے۔ چار ستمبر 2026 کو اسلام آباد میں ’’پاکستان کی اعلیٰ قدر کی برآمدی صلاحیت کھولنے‘‘ کے عنوان سے تیسرے اسٹریٹجک ڈائیلاگ کی صدارت وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کی، جس میں وفاقی و صوبائی اداروں، جامعات، چیمبرز، تجارتی انجمنوں، سرٹیفکیشن ایجنسیوں، برآمد کنندگان اور کاشت کاروں کے تقریباً ایک سو نمائندوں نے شرکت کی۔

مذاکرے میں گوشت، پولٹری، ڈیری، چاول، کھجور، باغبانی، زیتون اور نامیاتی مصنوعات کے شعبوں کو مرکزی توجہ دی گئی۔ شرکا نے کہا کہ عالمی منڈی میں صرف پیداوار بڑھانا کافی نہیں؛ صحت و صفائی کے ضابطوں، معیار کی تصدیق، ٹریس ایبلٹی، کولڈ چین، پیکجنگ اور مستقل برانڈنگ کے بغیر پاکستانی مصنوعات زیادہ قیمت والی منڈیوں تک محدود رسائی رکھتی ہیں۔ اجلاس کسی ایک مکمل شدہ پالیسی کا اعلان نہیں تھا بلکہ مختلف شعبوں کی رکاوٹیں اور قابل عمل اقدامات جمع کرنے کا مشاورتی مرحلہ تھا۔

اے پی پی کی رپورٹ کے مطابق زراعت قومی مجموعی پیداوار کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ اور روزگار کا 37 فیصد فراہم کرتی ہے، جبکہ زرعی مصنوعات کا پاکستان کی کل برآمدات میں حصہ تقریباً 22 فیصد ہے۔ اس بڑے معاشی وزن کے باوجود مالی سال 2025-26 میں خوراک کی برآمدات 5.02 ارب ڈالر اور درآمدات 9.15 ارب ڈالر رہیں۔ جولائی 2026 میں خوراک کی برآمدات سالانہ بنیاد پر 2.5 فیصد بڑھیں؛ اسی ماہ چاول کی برآمد میں 19 فیصد اور گوشت میں 16 فیصد اضافہ رپورٹ ہوا۔

حکومت نے مجموعی ملکی برآمدات پہلے 60 ارب ڈالر اور پھر 2035 تک 100 ارب ڈالر سے زیادہ کرنے کا ہدف دہرایا۔ یہ پالیسی اہداف ہیں، حاصل شدہ نتائج نہیں۔ اجلاس میں کہا گیا کہ ایگزم بینک کے برآمدی مالیاتی پول کو 2026 سے 2028 کے دوران ایک ٹریلین روپے سے بڑھا کر دو ٹریلین روپے کرنے کا منصوبہ ہے۔ وزارت خزانہ اور اسٹیٹ بینک کے تعاون سے چھوٹے اور درمیانے کاروبار کے لیے الگ سہولت تیار کرنے کی تجویز بھی زیر بحث آئی، تاہم قرض کی حتمی شرائط اور اجرا کا تفصیلی شیڈول جاری نہیں کیا گیا۔

حکومت نے نیشنل ٹیرف پالیسی کے دوسرے سال میں اضافی کسٹمز اور ریگولیٹری ڈیوٹیز بتدریج ختم کرنے کے ارادے کا ذکر کیا اور پاکستان ہارٹیکلچر ڈیولپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ کمپنی کے پلیٹ فارم کو منڈی تک رسائی اور ویلیو چین رابطے کے لیے استعمال کرنے پر زور دیا۔ قومی کمپلائنس اتھارٹی کو تین ماہ میں فعال ہونے کی توقع ظاہر کی گئی تاکہ مختلف برآمدی معیار اور سرٹیفکیشن تقاضوں میں بہتر ہم آہنگی لائی جاسکے۔ متوقع مدت سرکاری منصوبہ ہے اور اس کی تکمیل ادارہ جاتی نوٹیفکیشن اور عملی فعالیت سے ثابت ہوگی۔

حلال گوشت کی برآمدات کو 2028 تک 70 کروڑ ڈالر تک پہنچانے کا ہدف پیش کیا گیا۔ اس مقصد کے لیے پراسیس شدہ اور پیک شدہ گوشت پر سیلز ٹیکس کے فرق کا جائزہ، قومی سطح پر مویشی اور بکریوں کی بہتری کا پروگرام، بیماریوں کا کنٹرول، نسلوں کی بہتری، پیداواری معیارات اور ٹریس ایبلٹی کو ضروری قرار دیا گیا۔ حکومت کے پاس 7.35 ارب روپے کا لائیو اسٹاک ٹریس ایبلٹی پروگرام موجود ہے، مگر رپورٹ کے مطابق اس کے مکمل نفاذ کے لیے فنڈنگ اور صوبائی سطح پر اختیار کیے جانے کے مراحل باقی ہیں۔

چاول کے شعبے میں غیر معیاری کھیپوں کے خلاف کارروائی، خوردنی تیل کے بیجوں پر محصولات کا ازسرنو جائزہ اور گودام رسیدی نظام کو وسیع کرنے کی تجاویز سامنے آئیں۔ باغبانی کے لیے پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل کے ذریعے برآمدی معیار کی پھلوں کی اقسام، جبکہ نامیاتی مصنوعات کے لیے قومی معیار، تسلیم شدہ لیبارٹریاں اور چھوٹے کاشت کاروں کے لیے سستی گروپ سرٹیفکیشن کی سفارش کی گئی۔ یہ نکات مکالمے کی تجاویز ہیں؛ ان میں سے ہر اقدام کے لیے متعلقہ وزارت، ریگولیٹر یا صوبے کی الگ منظوری درکار ہوسکتی ہے۔

اس پیش رفت کا قابل پیمائش نتیجہ آئندہ پالیسی دستاویزات، برآمدی فنانس کے حقیقی اجرا، کمپلائنس اتھارٹی کی فعالیت، بیماری سے پاک لائیو اسٹاک زونز، سرٹیفکیشن کی تعداد اور خوراک و زرعی برآمدات کے اعداد سے سامنے آئے گا۔ فی الحال تصدیق شدہ بات یہ ہے کہ حکومت نے تقریباً ایک سو سرکاری، علمی اور کاروباری نمائندوں کے ساتھ اعلیٰ قدر کی زرعی برآمدات کے لیے مشترکہ روڈ میپ پر منظم مشاورت شروع کردی ہے۔