لاہور: پاکستان میں گھر سے کام کرنے والے متعدد مزدور شدید معاشی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں اور بعض کارکنوں کی آمدن صرف 50 روپے فی گھنٹہ تک رہ گئی ہے۔ انٹرنیشنل ہوم بیسڈ ورکرز ڈے کے موقع پر لاہور میں منعقدہ ایک تقریب میں ٹریڈ یونین نمائندوں اور نچلی سطح کے کارکنوں نے اجرتوں کے جمود، مہنگائی، بجلی کے بڑھتے بلوں، سماجی تحفظ کی کمی اور خواتین کارکنوں کو درپیش امتیازی حالات پر تشویش کا اظہار کیا۔

تقریب میں مقررین نے کہا کہ کئی ہوم بیسڈ ورکرز کی فی یونٹ یا فی کام اجرت گزشتہ تین برس میں تبدیل نہیں ہوئی، حالانکہ اسی عرصے میں روزمرہ ضروریات اور توانائی کے اخراجات بڑھے ہیں۔ ان کے مطابق کم اجرت کا اثر بالخصوص ان خواتین پر زیادہ پڑتا ہے جو گھروں میں سلائی، کڑھائی، پیکنگ، دستکاری یا دیگر چھوٹے پیداواری کام کرکے خاندان کی آمدن میں حصہ ڈالتی ہیں۔

مزدور نمائندوں نے غیر ادا شدہ محنت، پیشہ ورانہ صحت کے خطرات، صنفی بنیاد پر اجرت کے فرق اور کام سے متعلق ہراسانی کے مسائل بھی اٹھائے۔ مقررین کا کہنا تھا کہ غیر رسمی شعبے میں کام کرنے والی بہت سی خواتین روایتی صنعتی کارکنوں کی طرح قانونی اور سماجی تحفظ کے نظام تک مؤثر رسائی نہیں رکھتیں، جس سے بیماری، کام کے حادثے یا آمدن میں اچانک کمی کی صورت میں ان کے خاندان مزید غیر محفوظ ہو جاتے ہیں۔

تقریب میں ہوم بیسڈ ورکرز کی تنظیم سازی اور سرکاری سطح پر ان کی رجسٹریشن بہتر بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔ مزدور رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ صوبائی اور وفاقی ادارے کم از کم اجرت اور سماجی تحفظ کے موجودہ فریم ورک میں گھر سے کام کرنے والوں کی عملی شمولیت یقینی بنائیں اور ٹھیکیداروں یا درمیانی افراد کے ذریعے ہونے والے کام میں اجرت کی شفافیت بڑھائی جائے۔

50 روپے فی گھنٹہ آمدن کا عدد تقریب میں کارکنوں اور نمائندوں کی جانب سے بیان کردہ صورتحال ہے، اسے تمام ہوم بیسڈ ورکرز کی قومی اوسط اجرت نہیں سمجھا جا سکتا۔ دستیاب رپورٹ کسی نئے سرکاری سروے یا ملک گیر اجرتی ڈیٹا کا اعلان نہیں کرتی۔ تاہم تقریب میں سامنے آنے والی شہادتیں غیر رسمی معیشت میں گھر سے کام کرنے والے مزدوروں، خصوصاً خواتین، کے لیے اجرت اور سماجی تحفظ کے دیرینہ مسائل کی نشاندہی کرتی ہیں۔