اسلام آباد: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیرِ صدارت گندم کے قومی ذخائر سے متعلق اجلاس میں حکومت نے ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کو درآمدی عمل فوری شروع کرنے کی ہدایت دی ہے۔ سرکاری اطلاع کے مطابق ایک ملین میٹرک ٹن تک گندم درآمد کرنے کے منظور شدہ منصوبے کے پہلے مرحلے میں 7 لاکھ 50 ہزار ٹن گندم نومبر 2026 میں پاکستان پہنچانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

اجلاس میں ملک میں گندم کی دستیابی، وفاقی اور صوبائی ذخائر، ممکنہ طلب اور صوبوں کو فراہمی کے انتظامات کا جائزہ لیا گیا۔ حکومت نے ٹی سی پی سے کہا کہ وہ پہلے مرحلے کی خریداری کے لیے مطلوبہ کارروائی بلا تاخیر آگے بڑھائے تاکہ مقررہ مدت میں کھیپوں کی آمد ممکن بنائی جا سکے۔ یہ اعلان درآمدی ہدایت اور ہدف ہے؛ دستیاب سرکاری بیان میں تمام معاہدے مکمل ہونے، سپلائر منتخب ہونے یا پوری مقدار کی ترسیل ہو جانے کی تصدیق نہیں کی گئی۔

حکومت نے مجموعی طور پر دس لاکھ ٹن تک درآمد کی گنجائش رکھی ہے، لیکن فوری منصوبہ ساڑھے سات لاکھ ٹن پر مشتمل ہے۔ باقی مقدار کے وقت، خریداری کے طریقے اور ممکنہ دوسری کھیپ سے متعلق تفصیلی شیڈول اس اجلاس کی مختصر اطلاع میں نہیں دیا گیا۔ اس لیے مکمل ایک ملین ٹن کو پہلے سے طے شدہ اور موصول شدہ مقدار کے طور پر بیان کرنا درست نہیں ہوگا۔

اسحاق ڈار نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ اپنے حصے کی گندم بروقت اٹھائیں اور متعلقہ ادائیگیاں مقررہ وقت پر مکمل کریں۔ اجلاس میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان تاخیر سے ذخیرہ موجود ہونے کے باوجود مقامی منڈی میں فراہمی متاثر ہو سکتی ہے۔ صوبوں کے لیے مختص مقدار اور ہر علاقے کی ترسیلی تاریخ الگ انتظامی فیصلوں اور ادائیگیوں سے منسلک ہوگی۔

سرکاری موقف کے مطابق درآمد اور اندرونِ ملک ذخائر کی منظم ترسیل کا مقصد آٹے اور گندم کی دستیابی برقرار رکھنا اور قیمتوں میں غیر معمولی دباؤ سے بچنا ہے۔ تاہم قیمت استحکام حتمی نتیجہ ہوگا، ضمانت شدہ اثر نہیں؛ عالمی گندم نرخ، سمندری کرایہ، شرحِ مبادلہ، بندرگاہی اخراجات، اندرونِ ملک نقل و حمل اور مقامی فصل کی صورتحال صارف تک پہنچنے والی لاگت پر اثر ڈال سکتے ہیں۔

پاکستان میں گندم کی سرکاری خرید، ذخیرہ اور صوبوں کو اجرا کئی اداروں کی مشترکہ ذمہ داری سے جڑا ہے۔ اسی لیے اجلاس میں صرف نئی درآمد پر نہیں بلکہ موجودہ ذخائر کے مؤثر استعمال اور صوبوں کی بروقت لفٹنگ پر بھی زور دیا گیا۔ اگر صوبائی ادائیگیاں یا نقل و حمل تاخیر کا شکار ہوں تو درآمدی مقدار آنے کے باوجود مقامی سپلائی کا مطلوبہ اثر محدود رہ سکتا ہے۔

اگلے قابلِ تصدیق مراحل میں ٹی سی پی کا خریداری عمل، معاہدوں کی مقدار و قیمت، کھیپوں کا شیڈول اور بندرگاہ پر اصل آمد شامل ہوں گے۔ جب تک یہ تفصیلات باضابطہ طور پر جاری نہیں ہوتیں، موجودہ فیصلہ کو نومبر کی پہلی کھیپ کے لیے حکومتی ہدایت اور انتظامی ہدف سمجھا جائے گا، نہ کہ مکمل شدہ درآمد۔