اسلام آباد: پاکستان اور انڈونیشیا نے دونوں ملکوں کی بحری افواج کے درمیان تربیت، باہمی دوروں اور مشترکہ مشقوں کے ذریعے تعاون مزید بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ پیش رفت پاکستان کے چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف اور انڈونیشیا کی بحریہ کے سربراہ ایڈمرل ڈاکٹر محمد علی کے درمیان نیول ہیڈکوارٹر اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات کے دوران سامنے آئی۔
ریڈیو پاکستان کے مطابق دونوں بحری سربراہان نے دوطرفہ بحری تعلقات، پیشہ ورانہ تعاون اور خطے کی میری ٹائم سکیورٹی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات میں اس بات پر زور دیا گیا کہ موجودہ ادارہ جاتی رابطوں کو تربیتی پروگراموں، اعلیٰ سطح کے وفود کے تبادلوں اور مشترکہ بحری مشقوں کے ذریعے مزید مضبوط کیا جائے۔ دونوں جانب سے باہمی تجربات سے فائدہ اٹھانے اور سمندری سلامتی کے شعبے میں رابطہ برقرار رکھنے کی حمایت کی گئی۔
انڈونیشیا کے بحری سربراہ نے پاکستان نیوی کی جانب سے علاقائی میری ٹائم سکیورٹی کے لیے کیے جانے والے اقدامات کو سراہا۔ سرکاری رپورٹ میں کسی نئے دفاعی معاہدے، اسلحہ خریداری یا مشترکہ آپریشن کا اعلان نہیں کیا گیا؛ موجودہ پیش رفت بنیادی طور پر بحری افواج کے درمیان پیشہ ورانہ، تربیتی اور مشقی تعاون بڑھانے سے متعلق ہے۔
دورے کے کراچی مرحلے میں انڈونیشیا کے بحری سربراہ نے پاکستان نیوی کے فیلڈ کمانڈرز سے ملاقاتیں کیں۔ انہوں نے کراچی شپ یارڈ اینڈ انجینئرنگ ورکس کے منیجنگ ڈائریکٹر سے بھی تبادلہ خیال کیا اور پاکستان نیوی کے فلیٹ یونٹس کا دورہ کیا۔ سرکاری تفصیل کے مطابق انہوں نے جوائنٹ میری ٹائم انفارمیشن کوآرڈی نیشن سینٹر بھی دیکھا، جہاں سمندری صورت حال سے متعلق رابطہ اور معلوماتی ہم آہنگی کے انتظامات کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔
پاکستان اور انڈونیشیا دونوں بحرِ ہند اور جنوب مشرقی ایشیا سے جڑے اہم سمندری راستوں کے حامل ممالک ہیں۔ دونوں بحری افواج کے درمیان تربیتی اور مشقی رابطے سمندری پیشہ ورانہ صلاحیت، بندرگاہی دوروں اور باہمی اعتماد کے فروغ کا حصہ ہیں۔ موجودہ ملاقات میں بھی تعاون کو انہی عملی شعبوں تک آگے بڑھانے پر توجہ رہی۔
اعلان میں کسی مخصوص آئندہ مشترکہ مشق کی تاریخ، مقام یا آپریشنل منصوبے کی تفصیل جاری نہیں کی گئی۔ اس لیے اس پیش رفت کو دونوں بحری افواج کے درمیان تعاون بڑھانے کے پالیسی اور ادارہ جاتی عزم کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، جبکہ عملی سرگرمیوں کی تفصیلات بعد میں متعلقہ بحری حکام کے سرکاری اعلانات کے مطابق سامنے آئیں گی۔
