ریاض: پاکستان کی آئی ٹی اور آئی ٹی سے منسلک خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں نے سعودی عرب میں منعقدہ لیپ 2026 کے دوران خلیجی منڈی میں کاروبار، شراکت داری اور خدمات کی برآمد بڑھانے کی کوششیں کی ہیں۔ بزنس ریکارڈر کی 4 ستمبر کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی شرکا نے سعودی اور دیگر بین الاقوامی سرمایہ کاروں و ٹیکنالوجی کمپنیوں کی جانب سے دلچسپی ملنے کا دعویٰ کیا، تاہم رپورٹ میں طے پانے والے ممکنہ سودوں کی مجموعی مالی قدر یا حتمی برآمدی آرڈرز کا عدد نہیں دیا گیا۔

لیپ 2026 ریاض میں 31 اگست سے 3 ستمبر تک منعقد ہوا۔ پاکستان سافٹ ویئر ہاؤسز ایسوسی ایشن، پاشا، کے مطابق یہ فورم پاکستانی کمپنیوں کے لیے سعودی عرب اور وسیع تر خلیجی و مشرقِ وسطیٰ کی منڈیوں میں خریداروں، سرمایہ کاروں اور کاروباری فیصلہ سازوں سے براہِ راست رابطے کا موقع تھا۔ پاشا نے سعودی عرب میں مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ، ڈیجیٹل تبدیلی اور اسمارٹ انفراسٹرکچر پر بڑھتی سرکاری و نجی سرمایہ کاری کو پاکستانی خدمات کے لیے ممکنہ منڈی قرار دیا تھا۔

بزنس ریکارڈر کے مطابق 100 سے زیادہ پاکستانی کمپنیوں اور تقریباً ایک ہزار مندوبین نے ایونٹ میں شرکت کی، جبکہ ’’تھنک ٹیک، تھنک پاکستان‘‘ کے عنوان سے قائم پاکستان پویلین میں 18 کمپنیوں کے اسٹال تھے۔ پاکستانی اداروں نے سائبر سکیورٹی، کلاؤڈ مائیگریشن، مینیجڈ سروسز، مصنوعی ذہانت پر مبنی ایپلی کیشنز، آٹومیشن، ڈیٹا اینالیٹکس، ڈیجیٹل گورنمنٹ اور بینکاری، صحت، توانائی، لاجسٹکس، رئیل اسٹیٹ و اسمارٹ سٹیز کے لیے خصوصی حل پیش کیے۔

رپورٹ میں بعض پاکستانی کمپنیوں اور پاشا کے نمائندوں نے کہا کہ سعودی اداروں سے مثبت ردِعمل ملا اور شراکت داری، کاروباری مواقع اور ممکنہ سرمایہ کاری کی تلاش کے لیے متعدد معاہدے کیے گئے۔ چونکہ ان معاہدوں کی تفصیلی شرائط، مالی قدر، نفاذ کی مدت اور قانونی حیثیت عوامی رپورٹ میں مکمل طور پر بیان نہیں ہوئی، اس لیے انہیں مکمل شدہ سرمایہ کاری یا یقینی برآمدی آمدن قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ان کا عملی نتیجہ مستقبل کے تجارتی معاہدوں اور ادائیگیوں سے واضح ہوگا۔

پاشا کے چیئرمین سجاد مصطفیٰ سید نے پاکستانی کمپنیوں کی مسلسل تیسری بار شرکت کو عالمی سطح پر مقامی صنعت کی مسابقتی صلاحیت کا اظہار قرار دیا۔ کمپنی نمائندوں نے خاص طور پر مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی اور انٹرپرائز سافٹ ویئر میں سعودی مانگ کا ذکر کیا اور مقامی دفاتر یا شراکت داروں کے ذریعے مستقل موجودگی قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ یہ صنعت کے شرکا کا تجارتی جائزہ ہے، سرکاری برآمدی پیش گوئی نہیں۔

بزنس ریکارڈر کے مطابق ایونٹ میں مجموعی طور پر دو لاکھ سے زیادہ زائرین، 1,800 عالمی ٹیکنالوجی برانڈز، 600 اسٹارٹ اپس، 1,900 سرمایہ کار اور ایک ہزار سے زیادہ مقررین شریک ہوئے۔ ایسے بڑے فورم میں موجودگی کمپنیوں کو رابطے اور نمائش فراہم کرتی ہے، مگر برآمدی کامیابی کا قابلِ تصدیق پیمانہ بعد میں دستخط ہونے والے حتمی معاہدے، موصولہ رقوم، نئے صارفین اور پاکستان کے سرکاری آئی ٹی برآمدی اعداد ہوں گے۔

پاکستانی صنعت کے لیے اگلا مرحلہ لیپ میں شروع ہونے والی بات چیت کو باقاعدہ کنٹریکٹس، سعودی ضابطوں کی تکمیل، مقامی شراکت داری اور قابلِ پیمائش برآمدی آمدن میں بدلنا ہے۔ موجودہ پیش رفت کو مثبت کاروباری دلچسپی اور مارکیٹ رسائی کی کوشش کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے، لیکن اسے ابھی تصدیق شدہ برآمدی اضافہ نہیں کہا جا سکتا۔