اسلام آباد: پاکستان اور لبنان نے سزا یافتہ افراد کی باہمی منتقلی کے لیے ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں، جس کا مقصد دونوں ملکوں کے ایسے شہریوں کے لیے قانونی طریقہ کار فراہم کرنا ہے جو دوسرے ملک میں سزا کاٹ رہے ہوں اور متعلقہ شرائط پوری ہونے پر اپنی سزا کی باقی مدت اپنے وطن میں مکمل کرنا چاہتے ہوں۔ معاہدے پر پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی اور لبنان کے وزیر داخلہ و بلدیات احمد الحجار نے دستخط کیے۔
دستخط کی تقریب وزیراعظم شہباز شریف کی موجودگی میں اسلام آباد میں ہوئی۔ بزنس ریکارڈر اور سرکاری خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق لبنانی وزیر داخلہ ایک سرکاری وفد کے ہمراہ پاکستان کے دورے پر تھے۔ ملاقاتوں کے دوران داخلہ امور، سکیورٹی تعاون اور دونوں ممالک کے درمیان ادارہ جاتی روابط بڑھانے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
نئے انتظام کا بنیادی مقصد سزا یافتہ شہریوں کی منتقلی کے لیے باقاعدہ بین الحکومتی فریم ورک قائم کرنا ہے۔ اس نوعیت کے معاہدوں میں عام طور پر کسی قیدی کی سزا کو ختم یا معاف نہیں کیا جاتا بلکہ اہل فرد کو، متعلقہ ریاستوں کی منظوری اور قانونی شرائط کے تحت، دوسرے ملک سے اپنے ملک منتقل کیا جا سکتا ہے تاکہ باقی سزا وہاں پوری کی جائے۔ پاکستان اور لبنان کے تازہ معاہدے کے مخصوص اطلاق، اہلیت، رضامندی اور انتظامی مراحل کا انحصار اس کے حتمی قانونی و عملی طریقہ کار پر ہوگا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے لبنانی وزیر داخلہ سے ملاقات میں دونوں ملکوں کے دیرینہ تعلقات کا ذکر کیا اور داخلہ و سکیورٹی کے شعبوں میں بڑھتے تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے جانی و مالی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا اور لبنان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا۔ یہ سفارتی موقف سزا یافتہ افراد کی منتقلی کے معاہدے سے الگ وسیع تر دوطرفہ گفتگو کا حصہ تھا۔
احمد الحجار نے پاکستانی قیادت کی میزبانی پر شکریہ ادا کیا اور لبنان کی جانب سے باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی خواہش ظاہر کی۔ ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور دیگر اعلیٰ حکام بھی شریک تھے۔ دونوں جانب سے داخلہ امور، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سکیورٹی رابطوں کو زیادہ منظم بنانے میں دلچسپی ظاہر کی گئی۔
سزا یافتہ افراد کی منتقلی کے معاہدے انسانی اور قونصلر پہلو بھی رکھتے ہیں کیونکہ اپنے ملک میں سزا پوری کرنے سے قیدی کو خاندان، زبان، مقامی قانونی نظام اور بحالی کے اداروں تک نسبتاً بہتر رسائی مل سکتی ہے۔ تاہم ہر منتقلی خودکار نہیں ہوتی اور اسے دونوں ممالک کے قابل اطلاق قوانین، عدالتی فیصلوں اور سرکاری منظوریوں کے مطابق انجام دیا جاتا ہے۔
مفاہمتی یادداشت پر دستخط اس مرحلے پر دونوں ممالک کے درمیان قانونی فریم ورک کے قیام کی تصدیق کرتے ہیں۔ اس کے تحت کتنے افراد اہل ہوں گے، پہلی منتقلی کب ہوگی اور عملی درخواستوں پر کیا طریقہ اختیار کیا جائے گا، اس بارے میں دستیاب سرکاری اطلاعات میں ابھی مخصوص اعداد یا تاریخیں نہیں دی گئیں۔

