اسلام آباد: پاکستان اور لبنان نے داخلی سلامتی، انسدادِ دہشت گردی اور منظم جرائم کے خلاف باہمی تعاون کو مزید مؤثر بنانے کے لیے انٹیلی جنس شیئرنگ اور ادارہ جاتی رابطہ بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ پیش رفت 15 ستمبر کو اسلام آباد میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور لبنان کے وزیر داخلہ احمد الحجار کے درمیان ملاقات اور بعد ازاں وفود کی سطح پر مذاکرات میں سامنے آئی۔

ریڈیو پاکستان اور دیگر پاکستانی خبر رساں ذرائع کے مطابق مذاکرات میں دہشت گردی کے انسداد، منشیات کی اسمگلنگ، غیر قانونی امیگریشن، منی لانڈرنگ اور سائبر جرائم کی روک تھام پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں جانب سے اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ ابھرتے ہوئے سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بروقت معلومات کا تبادلہ اور متعلقہ اداروں کے درمیان براہِ راست رابطہ بڑھایا جائے۔

مذاکرات میں پولیس اکیڈمیوں اور تربیتی پروگراموں کے درمیان تعاون بڑھانے کی تجویز بھی زیرِ بحث آئی تاکہ دونوں ملک ایک دوسرے کے تجربات اور پیشہ ورانہ مہارت سے فائدہ اٹھا سکیں۔ دونوں وزرائے داخلہ نے اپنی وزارتوں کے درمیان تعاون کے لیے ایک نئی مفاہمتی یادداشت پر جلد دستخط کرنے کا فیصلہ کیا، جبکہ دوطرفہ رابطہ مضبوط بنانے کے لیے فوکل پرسنز مقرر کرنے پر بھی اتفاق ہوا۔

اجلاس میں موجود انسدادِ منشیات مفاہمتی یادداشت پر مکمل عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ دونوں فریقوں نے دہشت گرد نیٹ ورکس اور منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث گروہوں کے خلاف کارروائی میں معلوماتی تعاون بڑھانے کی بھی حمایت کی۔ سفارتی اور سرکاری پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے ویزا فری داخلے کے امکانات پر بھی گفتگو ہوئی، تاہم اس معاملے پر کسی حتمی فیصلے کا اعلان نہیں کیا گیا۔

لبنانی وزیر داخلہ کے دورے کے دوران دوطرفہ تعلقات اور خطے کی سکیورٹی صورتحال بھی زیرِ بحث رہی۔ پاکستانی حکام نے کہا کہ اسلام آباد لبنان کے ساتھ قانون نافذ کرنے والے شعبوں میں عملی تعاون بڑھانا چاہتا ہے۔ اس مرحلے پر اعلان تعاون کے فریم ورک اور مستقبل کی مفاہمتی یادداشت سے متعلق ہے؛ کسی مشترکہ آپریشن یا مخصوص انٹیلی جنس کارروائی کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔