اسلام آباد: پاکستان اور مالدیپ نے دوطرفہ اقتصادی اور تزویراتی تعلقات کو وسعت دینے کے لیے باہمی تجارت کا حجم دو سال کے اندر 20 کروڑ ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ موجودہ تجارت تقریباً 1 کروڑ 40 لاکھ ڈالر بتائی گئی ہے، اس لیے نیا ہدف دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی روابط میں نمایاں اضافے کی خواہش کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ پیش رفت مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو کے پاکستان کے تین روزہ سرکاری دورے کے دوران وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ مذاکرات میں سامنے آئی۔
دونوں ممالک نے صحت، تعلیم، سیاحت، زراعت اور دفاع سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے 20 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے۔ مذاکرات میں سرمایہ کاری، رابطہ کاری اور عوامی سطح پر روابط بڑھانے کے امکانات پر بھی بات ہوئی۔ پاکستانی جانب نے مالدیپ کے طلبہ کے لیے اضافی وظائف اور شجرکاری سے متعلق ایک اقدام میں تعاون کی پیشکش بھی کی۔
اقتصادی ایجنڈے کے ساتھ داخلی سلامتی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون پر بھی اتفاق ہوا۔ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور مالدیپ کے وزیر برائے ہوم لینڈ سکیورٹی و ٹیکنالوجی علی احسان کے درمیان ملاقات میں غیر قانونی امیگریشن، انسانی اسمگلنگ اور منظم جرائم جیسے مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے رابطے بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ پاکستانی حکام کے مطابق تجربات کے تبادلے اور ادارہ جاتی تعاون کو علاقائی امن و استحکام کے لیے اہم سمجھا گیا۔
یہ دورہ پاکستان اور مالدیپ کے سفارتی تعلقات کی ساٹھویں سالگرہ کے موقع پر ہو رہا ہے اور گیارہ برس میں کسی مالدیپی صدر کا پاکستان کا پہلا دورہ بتایا گیا ہے۔ دونوں حکومتوں کے درمیان طے پانے والی مفاہمتیں فوری تجارتی نتائج کی ضمانت نہیں بلکہ آئندہ تعاون کا فریم ورک ہیں؛ 20 کروڑ ڈالر کے تجارتی ہدف کے حصول کا انحصار نجی شعبے کی شمولیت، نئی تجارتی راہوں، سرمایہ کاری اور طے شدہ اقدامات پر عمل درآمد پر ہوگا۔ صدر معیزو اور مالدیپ کے اقتصادی ترقی، ٹرانسپورٹ اور تجارت کے وزیر کی پاکستان-مالدیپ بزنس فورم میں شرکت بھی اسی اقتصادی رابطہ کاری کا حصہ ہے۔
