اسلام آباد: پاکستان اور مالدیپ نے فضائی رابطوں اور دوطرفہ تجارت کو وسعت دینے کی کوششوں کے تحت براہ راست پروازوں کے قیام پر کام آگے بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے مالدیپ-پاکستان بزنس فورم 2026 سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے وزارت ہوا بازی کو دونوں ملکوں کے درمیان براہ راست فضائی سروس شروع کرنے کے قابل عمل طریقوں کا جائزہ لینے کی ہدایت دی ہے۔ فورم میں مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو بھی شریک تھے۔
وزیراعظم نے صدر معیزو کے دورۂ پاکستان کو دوطرفہ تعلقات کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ بہتر فضائی رابطہ تجارت، سرمایہ کاری اور عوامی روابط کو بڑھانے میں مدد دے سکتا ہے۔ ان کے مطابق براہ راست پروازیں کاروباری وفود، سیاحت اور دونوں ممالک کے درمیان سفر کو آسان بنانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ تاہم حکومتی بیان میں کسی ایئرلائن، روٹ، آغاز کی تاریخ یا پروازوں کی تعداد کا حتمی اعلان نہیں کیا گیا، اس لیے اس مرحلے کو عملی فضائی سروس کے آغاز کے بجائے امکانات کے جائزے اور پالیسی ہدایت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
پاکستان اور مالدیپ کے درمیان موجودہ سفری روابط میں عموماً تیسرے ملک کے ذریعے کنکشن درکار ہوتا ہے۔ براہ راست رابطے کی صورت میں سفر کا وقت اور لاگت کم ہو سکتی ہے، لیکن کسی روٹ کے تجارتی طور پر قابل عمل ہونے کے لیے مسافروں کی طلب، ایئرلائن آپریشنز، دوطرفہ فضائی خدمات کے انتظامات اور ہوائی اڈوں کی سہولتوں سمیت متعدد عوامل کا جائزہ ضروری ہوگا۔
یہ پیش رفت مالدیپ کے صدر کے پاکستان کے دورے کے دوران سامنے آئی ہے، جس میں دونوں حکومتیں تجارت اور سرمایہ کاری کے تعلقات بڑھانے پر بھی گفتگو کر رہی ہیں۔ بزنس فورم میں نجی شعبے کی شمولیت کو اس لیے اہم سمجھا گیا کہ فضائی رابطے میں اضافہ کاروباری مواقع کو عملی شکل دینے میں معاون ہو سکتا ہے۔
وزارت ہوا بازی کی آئندہ جانچ کے بعد ہی یہ واضح ہوگا کہ براہ راست پروازوں کے لیے کون سا آپریشنل ماڈل، روٹ اور ٹائم لائن قابل عمل ہے۔ فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت یہ ہے کہ وزیراعظم نے متعلقہ وزارت کو امکانات تلاش کرنے کی ہدایت دی ہے اور دونوں ملکوں نے بہتر فضائی رابطے کو دوطرفہ اقتصادی تعلقات کے لیے اہم قرار دیا ہے۔

