اسلام آباد: پاکستان اور مالدیپ نے باہمی تعاون کو وسعت دینے کے لیے 20 مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط کیے ہیں، جبکہ دونوں ملکوں کی قیادت نے دوطرفہ تجارت کو آئندہ دو برس کے دوران 20 کروڑ امریکی ڈالر تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ معاہدوں پر دستخط مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو کے پاکستان کے سرکاری دورے کے موقع پر ہوئے۔
وزیراعظم شہباز شریف اور صدر محمد معیزو نے وفود کی سطح پر مذاکرات کے بعد مشترکہ تقریب میں شرکت کی۔ دونوں جانب سے تجارت، تعلیم، صحت، سیاحت، ثقافت، سفارتی تربیت اور دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ پاکستانی قیادت نے مالدیپ کے ساتھ تعلقات کو دیرینہ اور دوستانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ نئے معاہدے عملی اقتصادی اور ادارہ جاتی روابط میں اضافے کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان موجودہ تجارتی حجم اپنی صلاحیت سے کم ہے اور اسے بڑھانے کے لیے نجی شعبے، کاروباری وفود اور سرکاری اداروں کے درمیان رابطوں کو مضبوط بنانا ضروری ہوگا۔ 20 کروڑ ڈالر کا ہدف اسی کوشش کا حصہ ہے، تاہم اس کا حصول نئی تجارتی سرگرمیوں، منڈی تک رسائی اور کاروباری معاہدوں پر منحصر ہوگا۔
صدر محمد معیزو نے پاکستان کے ساتھ تعلقات کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ دستخط شدہ مفاہمتی یادداشتیں دوطرفہ شراکت داری کے ایک نئے مرحلے کی بنیاد فراہم کرتی ہیں۔ انہوں نے تعلیم، انسانی وسائل کی تربیت اور دیگر شعبوں میں پاکستان کے تعاون کو سراہا اور اقتصادی تعلقات میں اضافے کی خواہش ظاہر کی۔
دونوں ملک 2026 میں سفارتی تعلقات کے قیام کی 60 ویں سالگرہ بھی منا رہے ہیں۔ مالدیپ کے کسی صدر کا یہ پاکستان کا پہلا دورہ ہے جو ایک دہائی سے زیادہ عرصے کے وقفے کے بعد ہوا ہے۔ اس تناظر میں دورے کو سیاسی رابطوں کے ساتھ اقتصادی اور عوامی سطح کے تعلقات دوبارہ فعال کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
معاہدوں کے بعد اصل امتحان ان پر عمل درآمد اور قابل پیمائش نتائج کا ہوگا۔ تجارت کے مقررہ ہدف تک پہنچنے کے لیے دونوں حکومتوں کو درآمد و برآمد کے نئے مواقع، کاروباری روابط، سیاحت اور خدمات کے شعبے میں تعاون کو عملی شکل دینا ہوگی۔ دورے کے دوران ہونے والے فیصلوں پر پیش رفت آئندہ دو برس میں پاکستان اور مالدیپ کے اقتصادی تعلقات کی سمت واضح کرے گی۔
