اسلام آباد: پاکستان میں وائلڈ پولیو وائرس کا ایک نیا کیس رپورٹ ہوا ہے، جس کے بعد قومی انسداد پولیو پروگرام نے والدین سے اپیل کی ہے کہ پانچ سال سے کم عمر تمام بچوں کو ہر مہم کے دوران پولیو سے بچاؤ کے قطرے ضرور پلوائے جائیں۔ حکام کے مطابق وائرس کی مسلسل موجودگی ان علاقوں میں خاص طور پر خطرہ برقرار رکھتی ہے جہاں ویکسینیشن کوریج میں خلا موجود ہے۔
پولیو ایک انتہائی متعدی وائرل بیماری ہے جو اعصابی نظام کو متاثر کر سکتی ہے اور بعض صورتوں میں مستقل فالج کا سبب بنتی ہے۔ اس کا کوئی علاج موجود نہیں، تاہم ویکسین کے ذریعے بچوں کو مؤثر تحفظ دیا جا سکتا ہے۔ پاکستان ان چند ممالک میں شامل رہا ہے جہاں وائلڈ پولیو وائرس کی مقامی ترسیل مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکی۔
انسداد پولیو حکام وائرس کی نگرانی کے لیے بچوں کے طبی نمونوں کے ساتھ سیوریج سے حاصل ہونے والے ماحولیاتی نمونوں کی جانچ بھی کرتے ہیں۔ کسی علاقے میں وائرس کی موجودگی سامنے آنے پر ہدفی ویکسینیشن مہمات اور اضافی حفاظتی اقدامات کیے جاتے ہیں تاکہ وائرس کی ترسیل کی زنجیر توڑی جا سکے۔
صحت حکام کا کہنا ہے کہ ہر مہم میں بچوں تک رسائی ضروری ہے کیونکہ ایک بھی غیر ویکسین شدہ بچہ نہ صرف خود خطرے میں رہتا ہے بلکہ وائرس کے پھیلاؤ کے لیے بھی راستہ بن سکتا ہے۔ دور دراز علاقوں، نقل مکانی کرنے والی آبادی اور بعض مقامات پر ویکسین سے متعلق غلط معلومات پروگرام کے لیے اہم چیلنجز رہے ہیں۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ پولیو ویکسین محفوظ ہے اور بچوں کو متعدد مرتبہ قطرے پلانا ان کے مدافعتی تحفظ کو مضبوط کرتا ہے۔ نئے کیس کے بعد متعلقہ علاقوں میں نگرانی اور ویکسینیشن سرگرمیوں پر توجہ مزید بڑھائی جا رہی ہے، جبکہ والدین اور مقامی برادریوں سے مکمل تعاون کی اپیل کی گئی ہے۔
